جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر سے ایسی چیز مانگ لی کہ عمران خان سمیت ساری کابینہ پریشان ہوگئی

datetime 31  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر سے وزیراعظم عمران خان کا ٹیکس ریکارڈ مانگ لیا۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کو اپنے مفصل جواب میں کہا

کہ ایف بی آر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرا ٹیکس ریکارڈ سویلین شہریوں کو فراہم کیا۔سرینا عیسیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں وزیراعظم عمران خان، وزیر قانون فروغ نسیم، مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر، سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان، وحید ڈوگر، اشفاق احمد کا ٹیکس ریکارڈ دیا جائے۔انہوں نے ایف بی آر کو اپنے جواب میں یہ بھی کہا کہ ان افراد کے خاندان کے ذرائع آمدن، انکم ٹیکس اور ٹیکس ریٹرن سمیت بیرون ممالک بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔دریں اثنا ایف بی آرنے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ کی منی ٹریل کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ ایف بی آر نے سرینہ عسیی کی لندن جائیدادوں کی جمع کرائی گئی منی ٹریل کا جائزہ لیا اور پھر 21 اگست کو سیکشن 122 اور 111 کے تحت 2 نوٹس بھیجے۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے سرینہ عیسی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کی مجموعی آمدن لندن جائیدادیں خریدنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیم کے مطابق سرینہ عیسیٰ کی ٹیکس والی آمدنی 93 لاکھ 75ہزار روپے تھی ، لندن کی تینوں جائیدادوں کی قیمت 10 کروڑ 43 لاکھ روپے تھی۔ذرائع کے مطابق سرینہ عیسیٰ نے بھی ایف بی آر کی جانب سے 21 اگست کو بھیجے گئے خطوط کا جواب بھی جمع کرا دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرینہ عیسیٰ کی جانب سے جواب میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر نے میری 2243 کنال زمین کی زرعی آمدن شامل نہیں کی، ایف بی آر نے کلفٹن کی جائیدادوں کی وصول آمدن بھی شمار نہیں کی۔ذرائع کے مطابق سرینہ عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے میری

ملازمت کی آمدن کو بھی لندن جائیدادوں کی قیمت میں شامل نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق سرینہ عیسی کا ایف بی آر کو جواب میں کہنا تھا کہ میری انکم ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے سرینہ عیسیٰ نے ایف بی آر کی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے ارسلان عیسی کی لیگل ٹیم نے وکالت سے بھی معذرت کر لی ہے۔سرینہ عیسی نے ایف بی آر کو اپنے جواب میں یہ بھی کہا ہے کہ ایف بی آر کی ٹیم میرے گوشواروں میں بھی ردبدل کر سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…