منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں سرکاری زمین پر تعمیرات کی اجازت دینے پر پابندی عائد

datetime 20  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری زمین پر تعمیرات کی اجازت دینے پر پابندی عائد کر دی۔نیشنل پارک ایریا میں سرکاری زمین پر قبضے کے خلاف کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوئی۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ سرکاری زمین پر قبضہ کروانا میئر اور چیئرمین سی ڈی اے کا مس کنڈکٹ ہے۔

عدالت نے کہا کہ سرکاری زمین قبضے پر سینیٹر اورنگزیب اورکزئی اور میئر اسلام آباد کے خلاف ریفرنس بنتا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ سرکاری زمینوں پر قبضے کروانے پر تفصیلی فیصلہ جاری کریں گے۔عدالت نے سینیٹر اورنگزیب اورکزئی سے استفسار کیا کہ آپ نے سرکاری زمین پر قبضے کے لیے باڑ کیوں لگائی؟سینیٹر اورنگزیب اورکزئی نے جواب دیا کہ پارٹی رہنماؤں نے خرچہ کر کے وزیراعظم کے گھر بھی باڑ لگوائی، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ وزیراعظم کو سرکاری زمین پر قبضے کے کیس میں نہ لائیں۔میئر اسلام آباد شیخ انصر نے کہا کہ ہم نے سرکاری زمین پر تعمیرات کی نہیں، صرف پودے لگانے کی اجازت دی، عدالت حکم دے تو سرکاری زمین پر لگی باڑ ہٹا دیتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ ہم پر احسان نہ کریں، سرکاری زمین کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے جو پوری نہیں کی گئی، اسلام آباد میں سرکاری زمین کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران اسلام آباد میں سب سے زیادہ سرکاری زمینوں پر قبضے ہوئے۔ڈائریکٹر ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے صرف 10 سے 15 ایکڑ پر پودے لگانے کی اجازت دی، اگر زیادہ باڑ لگی تو یہ تجاوز ہے جب کہ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ نیشنل پارک ایریا میں تمام اختیارات میٹروپولیٹن کارپوریشن اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے پاس ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں سرکاری زمین پر تعمیرات کی اجازت دینے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے، میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سب نے مل کر اسلام آباد پر بہت ظلم کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…