جمعہ‬‮ ، 09 جنوری‬‮ 2026 

غلام سرور کا غیر ذمہ دارانہ بیان گلے پڑ گیا،یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی فضائی آپریشن بحال کرنے کی اپیل مسترد کردی

datetime 13  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن )یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کی فضائی آپریشن بحال کرنے کی اپیل مسترد کردی ہے، یوروپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے پروازوں پر پابندی کو31 دسمبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، جبکہ اطمینان بخش اقدامات نہ کرنے پر پابندی میں توسیع بھی جاسکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی اپیل مسترد کرتے ہوئے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی کو31 دسمبر تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خبردار کیا ہے کہ اگر 31 دسمبر کے بعد بھی پی آئی اے نے فضائی حفاظتی اقدامات کو بہتر نہ بنایا تو اس پابندی میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے۔اس لیے یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے پی آئی اے پروازوں پر پابندی میں توسیع کو شہری ہوا بازی کے سیفٹی اقدامات سے مشروط کردیا ہے۔واضح رہے یوروپی ایئر سیفٹی ایجنسی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی پروازوں پر یہ پابندی اس وقت لگائی گئی جب پی آئی اے کی پرواز 8303 کے حادثے سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے آئی۔ وزیر ہوا بازی غلام سرور نے ایوان کو بتایا تھا کہ پی آئی اے کے 141 پائلٹوں سمیت 860 پاکستانی پائلٹوں نے کبھی امتحانات میں حصہ نہیں لیا اور ان کے لائسنس جعلی ہیں۔اس کے بعد یورپی یونین ایئرسیفٹی ایجنسی نے 30 جون کو پی آئی اے کا فضائی آپریشن6 ماہ کیلئے معطل کردیا تھا۔ فلائٹ آپریشن معطلی کا اطلاق یکم جولائی رات 12بجے یوٹی سی ٹائم کے مطابق ہوا، آپریشن معطل ہونے کے بعد پی آئی اے نے بھی یورپ کیلئے تمام پروازیں منسوخ کردی تھیں۔ یورپی یونین کے ہوا بازی و ٹرانسپورٹ کے ترجمان اسٹیفن کیر ماخر کا کہنا تھا کہ پی آئی اے پر حالیہ پابندی لگانے کی وجہ وزیر ہوابازی کا بیان ہے، پی آئی اے سے اڑھائی سال قبل یورپی فضائی معیارات پر بات شروع کی تھی، لیکن پی آئی اے تاحال یورپی ایجنسی کو ایئرلائن سیفٹی پر مطمئن نہیں کرسکی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…