پارک لین ریفرنس : فراڈ سے حاصل رقم کو اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیا ،پے آرڈرز کے ذریعے آپ نے وہی رقوم جعلی اکاؤنٹس میں ڈال دی، بطور صدر اپنے شریک ملزمان کیساتھ اختیار کا غلط استعمال کیا ، قرض کی رقوم جاری کرائیں،عدالت نے آصف زرداری ،حسین لوائی،عبد الغنی مجید سمیت13 ملزمان پر فرد جرم عائدکر دی،عدالت نے نیب کوزرداری کیخلاف یکم ستمبر کو 3 گواہان پیش کرنے کا حکم دیدیا

  پیر‬‮ 10 اگست‬‮ 2020  |  14:49

اسلام آباد (آن لائن) احتساب عدالت اسلام آباد نے پارک لین ریفرنس میں سابق صدر آصف زرداری، حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سمیت 13 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ پارک لین ریفرنس کیس کی سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کورٹ روم نمبر دو کے جج اعظم خان نے کی تمام ملزمان کی حاضری ویڈیو لنک کے ذریعے لگائی گئی ۔آصف زرداری کےوکیل فاروق نائیک عدالت میں پیش نہ ہوئے جبکہ نیب کی طرف سے کیس کی پیروی ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کی ۔دو ملزمان اقبال خان نوری


اور طحہ رضا کے وکلا نے فرد جرم رکوانے کی درخواستیں دائر کی تو عدالت نے فرد جرم رکوانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے درخواستیں دائر کرنی تھیں تو پہلے کرتے ابھی تک کیا کر رہے تھے؟ احتساب جج اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ لوگ آج کے دن کا انتظار کر رہے تھے؟ آج انشا اللہ فرد جرم لازمی عائد ہو گی۔احتساب عدالت اسلام آباد کے جج نے پارک لین ریفرنس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ملزمان سے فرداً فرداً ان کی کاسٹ کے بارے میں پوچھا تو آصف زرداری نے عدالت کو بتایا کہ میں سندھی ہوں اور سندھ سے نمائندگی کرتا ہوں ۔ اس موقع پر اقبال نوری اور طلحہ رضا کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں ملزمان سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی ہمیں فرد جرم سے پہلے ملنے کی اجازت دی جائے جس پر جج اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ پہلے فرد جرم ہو جانے دیں اس کے بعد حکم جاری کر دیں گے آپ ملزمان سے ملتے رہنا آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کو اگاہ کیا کہ میرے وکیل آج موجود نہیں آج فرد جرم عائد نہ کی جائے میری جگہ پر جواب تو میرے وکیل نے ہی دینا ہے جس پر جج اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو صرف الزامات پڑھ کرسنائیں گے کہ آپ انہیں قبول کرتے ہیں یا نہیں؟ جس پر آصف زرداری نے عدالت کو جواب دیا کہ مجھے تیس سال ہو گئے ان مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے سب جانتا ہوں جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ سب جانتے ہیں تو پھر آپ کو اعتراض نہیں ہونا چائیے جس پر آصف زرداری نے عدالت کو بتایا کہ سب جانتا ہوں اسی لئے کہہ رہا ہوں وکیل کی موجودگی ضروری ہے آپ یہ فیصلہ دے دیں کہآصف زرداری کو وکیل کی ضرورت نہیں جس پر جج اعظم خان نے کہا کہ میں یہ فیصلہ نہیں دے سکتا نہ آپ کے وکیل کو آنے پر مجبور کر سکتا ہوں فرد جرم کے لئے صرف ملزم کی ضرورت ہوتی ہے آپ موجود ہیں آپ کے وکیل کو ہم نے نوٹس کیا تھا انہیں آنا چائیے تھا جس پر آصف زرداری نے عدالت کو بتایا کہ وکیل سپریم کورٹ میں موجود ہیں اس لئے نہیں آئے۔ جج نے فرد جرم پڑھی کہ آپ نےفراڈ سے حاصل رقم کو اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیا پے آرڈرز کے ذریعے آپ نے وہی رقوم جعلی اکاؤنٹس میں ڈال دی آپ نے بطور صدر اپنے شریک ملزمان کیساتھ اختیار کا غلط استعمال کیا۔آپ نے بدنیتی سے قرض لینے کے لئے فرنٹ کمپنی پارتھینون بنائی آپ نے بطور صدر پاکستان اثر انداز ہو کر قرض کی رقوم جاری کرائیں آپ پارک لین کمپنی کے ڈائریکٹر تھے آپ نے فراڈ کا منصوبہ تیار کیا،غیر قانونی کام کو کور دینے کے لئے آپ نے فرنٹ کمپنی بنائی ۔اس موقع پر زرداری نے صحت جرم سے انکار کیا جبکہ فرد جرم کے بعد رجسٹرار کراچی کے نمائندے نے زرداری سے دستخط لئے اور انگوٹھا لگوایا آصف زرداری نے عدالت سے ویٍڈیو لنک کے ذریعے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جس پر جج اعظم خان نے جواب دیا کہ کہیں آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں جس پر آصف زرداری نےعدالت کو بتایا کہ میں نے پاکستان کو اٹھارہویں ترمیم دی اس لیے یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں مجھ پر دباو ڈالنے کے لئے یہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں تاکہ میں پیچھے ہٹوں عدالتوں کو غیر جانبدار رہ کر فیصلے کرنے چاہییں قانون سب کے لئے برابر ہے عدالت اصولوں پر چلے تو بہتر ہے جس پر جج اعظم خان نے جواب دیا کہ ہم نے نیب سے شواہد مانگے ہیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائےہم انشا اللہ اصول پر ہی چلیں گے قانون سب کے لئے برابر ہے ،جج نے کہا کہ آصف زرداری ، انور مجید و دیگر پر نائن اے تین، چار، چھ، اور بارہ کے تحت ٹرائل چلے گا۔ اس موقع پر آصف زرداری نے اعتراض کیا کہ میں وکیل نہیں ہوں مجھے ان دفعات اور معاملات کا پتہ نہیں میں اب بھی کہتا ہوں آج فرد جرم کی کارروائی نہیں ہو سکتی تھی یہ سب لکھیں آپ کہ میرے وکیل کی عدم موجودگی میںمجھے دفعات بتائی جا رہی ہیں جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ ہم اتنا ضرور لکھیں گے کہ آپ کے وکیل موجود نہیں تھے آپ کے وکیل نہیں ہیں تو ظاہر ہے ان کی غیر حاضری ہی لکھی جائے گی ہم اپنی طرف سے آپ کے وکیل کی حاضری تو نہیں لگانے والے ۔ باقی جن ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی اْن میں اومنی گروپ کے سربراہ خواجہ انورمجید ،حسین لوائی، شیر علی ، فاروق عبداللہ سلیم فیصل،محمد حنیف، اقبال نوری، طلحہ رضا و دیگر شامل ہیں تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا جبکہ تین ملزمان یونس قدوائی ، عزیر نعیم اور اقبال میمن پارک لین کیس میں اشتہاری ہیں عدالت نے نیب کو آصف علی زرداری کیخلاف یکم ستمبر کو گواہان پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئےتین گواہان کو طلب کر لیا۔یاد رہے کہ گواہان میں احسن اسلم ، نبیل ظہور اور عبدالکبیر شامل ہیں گواہ احسن اسلام کمپنی رجسٹریشن آفس کے جوائنٹ رجسٹرار، نبیل ظہور نیشنل بنک کے کارپوریٹ بنکنگ گروپ کے سربراہ جبکہ گواہ عبدالکبیر کا تعلق سمٹ بنک کی کریڈٹ ڈویژن سے ہے کیس کی سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم قدم ارطغرل کے مزار پر

عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘ عاطف نے یہ 15 ....مزید پڑھئے‎

عاطف نواز راولپنڈی کی مکہ مارکیٹ میں دوپٹوں کا کام کرتا ہے‘ پندرہ سال کی عمر میں کام شروع کیا اور آہستہ آہستہ اس کام کا ماہر ہوتا چلا گیا‘ پندرہ سال قبل والد جگر کے عارضے کا شکار ہو گیا‘ انہیں ہیپاٹائیٹس سی ہوا اور وائرس آہستہ آہستہ ان کا جگر کھانے لگا‘ عاطف نے یہ 15 ....مزید پڑھئے‎