سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول کیس کی سماعت چیف جسٹس نے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے ایسازبردست اعلان کردیا جو کسی کے بھی وہم و گمان میں نہ تھا

  منگل‬‮ 4 اگست‬‮ 2020  |  13:49

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کیس کی سماعت، عدالت عظمیٰ نے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ابراہیم کی سربراہی میں قائم کمیشن کی رپورٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے جبکہ اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر کمیشن رپورٹ پر جواب جمع کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت سانحہ کے شہدا بچوں کے والدین نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ ہمیں کمیشن رپورٹ کی کاپی فراہم کی جائے ، ھم انصاف کے متلاشی ہیں۔چیف جسٹس نے اس موقع پر


ریمارکس دئیے کہ ہمیں آپ سے بے حد ہمدردی ہے،جو آپ کے ساتھ ہوا ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہے تھا، رپورٹ ابھی ہم نے نہیں پڑھی اور حکومت کا جواب آئے گاتو دیکھ لیں گے،قانون اور آئین کے مطابق جو ہوگا وہی کریں گے،یہاں قانون کی حکمرانی ہے جس کی کوتائی ہے اسے قانون کے مطابق دیکھیں گے،ہم نے کسی بھی زمہ دار کو نہیں چھوڑنا ہے،ہم نے کمیشن بنایا ہے ہم ہی اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ چھے والیم پر مشتمل رپورٹ ہے پہلے عدالت دیکھے گی پھر بتائیں گے، جو رپورٹ آئی ہے اس پر فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر کمیشن کی رپورٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے جبکہ اٹارنی جنرل سے رپورٹ پر جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی سماعت چار ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎