پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے کس اہم معاملے پر حکومت سے مذاکرات ختم کر نے کااعلان کر دیا

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب آر ڈینس سمیت دیگر بلوں پر حکومت سے مذاکرات ختم کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق نیب ترمیم پر راضی نہیں ، ہم نے کمیٹی سے واک آئوٹ کر دیا ہے ، اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی ،ابھی بھی امید ہے ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس کے مطابق ترامیم ہونی چاہیے

،ہمیں حکومت مخلص نظر نہیں آرہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ ،پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور (ن) لیگ کے عطاء اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ گزشتہ کچھ دنوں سے بات چل رہی کہ حکومت اور اپوزیشن کی بل پر بات ہو رہی ہے، یہ بھی کہا گیا کہ معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، حکومت نے کہا تھا چار بل دونوں ایوانوں سے پاس کرانا چاہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ان بلوں میں یو این سکیورٹی کونسل اور نیب آرڈیننس میں ترمیم بھی شامل ہے، یہ اتفاق ہوا کہ چاروں بل اسی سیشن میں قومی اسمبلی سے پاس ہونگے، اینٹی ٹیررزم بل اتنا کی ترمیم اتنی خطرناک تھی کہ ہم نے کہا اس کے بعد جمہوریت نہیں رہے گی۔انہوںنے کہاکہ نیب بل جو حکومت لائی تھی وہ وہی ہے جو پہلے لایا گیا، نیب بل میں ایک اضافہ تھا جو قانون شہادت کی نفی تھی۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے کہا یہ بل پاس نہیں ہوسکتا ، ہم نے کہا ایک نیا بل اتفاق رائے سے پاس کیا جائے گا، ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق حکومت سے کہا کہ یہ ترامیم نیب بل میں ہونی چاہئیں، اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان ترامیم سے راضی نہیں ہے،اب حکومت گْڈ فیٹھ میں اس پر بات نہیں کر رہی، اب حکومت بات نہیں کر رہی اس لئے کمیٹی سے واک آؤٹ کیا،

اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہمارے فیصلے اب اے پی سی سے ہونگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ن لیگ کی تجاویز سے اتفاق کرتی ہے، ہمیں امید ہے ابھی بھی ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس کے مطابق ترامیم ہوں، لیکن حکومت ہمیں مخلص نظر نہیں آرہی، یہ اپنے اختلافات مینیج نہیں کر پارہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ

ہم نے حکومت سے یہ کہا کہ بتا دیں کون سی ترامیم آپ کو پسند نہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اکنامک ٹیرارزم پر ایک خطرناک بل لیکر آئی ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس ہمارے سامنے نہیں لائی گئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، حکومت کی بدنیتی ہے ہم کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…