ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے کس اہم معاملے پر حکومت سے مذاکرات ختم کر نے کااعلان کر دیا

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب آر ڈینس سمیت دیگر بلوں پر حکومت سے مذاکرات ختم کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق نیب ترمیم پر راضی نہیں ، ہم نے کمیٹی سے واک آئوٹ کر دیا ہے ، اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی ،ابھی بھی امید ہے ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس کے مطابق ترامیم ہونی چاہیے

،ہمیں حکومت مخلص نظر نہیں آرہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ ،پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور (ن) لیگ کے عطاء اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ گزشتہ کچھ دنوں سے بات چل رہی کہ حکومت اور اپوزیشن کی بل پر بات ہو رہی ہے، یہ بھی کہا گیا کہ معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، حکومت نے کہا تھا چار بل دونوں ایوانوں سے پاس کرانا چاہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ان بلوں میں یو این سکیورٹی کونسل اور نیب آرڈیننس میں ترمیم بھی شامل ہے، یہ اتفاق ہوا کہ چاروں بل اسی سیشن میں قومی اسمبلی سے پاس ہونگے، اینٹی ٹیررزم بل اتنا کی ترمیم اتنی خطرناک تھی کہ ہم نے کہا اس کے بعد جمہوریت نہیں رہے گی۔انہوںنے کہاکہ نیب بل جو حکومت لائی تھی وہ وہی ہے جو پہلے لایا گیا، نیب بل میں ایک اضافہ تھا جو قانون شہادت کی نفی تھی۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے کہا یہ بل پاس نہیں ہوسکتا ، ہم نے کہا ایک نیا بل اتفاق رائے سے پاس کیا جائے گا، ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق حکومت سے کہا کہ یہ ترامیم نیب بل میں ہونی چاہئیں، اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان ترامیم سے راضی نہیں ہے،اب حکومت گْڈ فیٹھ میں اس پر بات نہیں کر رہی، اب حکومت بات نہیں کر رہی اس لئے کمیٹی سے واک آؤٹ کیا،

اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہمارے فیصلے اب اے پی سی سے ہونگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ن لیگ کی تجاویز سے اتفاق کرتی ہے، ہمیں امید ہے ابھی بھی ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس کے مطابق ترامیم ہوں، لیکن حکومت ہمیں مخلص نظر نہیں آرہی، یہ اپنے اختلافات مینیج نہیں کر پارہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ

ہم نے حکومت سے یہ کہا کہ بتا دیں کون سی ترامیم آپ کو پسند نہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت اکنامک ٹیرارزم پر ایک خطرناک بل لیکر آئی ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس ہمارے سامنے نہیں لائی گئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، حکومت کی بدنیتی ہے ہم کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…