جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستانیوں کی نوکریاں بچانے زلفی بخاری دبئی پہنچ گئے ، بڑا اعلان کردیا

datetime 23  جولائی  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دبئی(این این آئی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری نے بتایا ہے کہ بیرونِ ملک نوکریوں سے محروم ہونے والے زیادہ تر پاکستانی ورکرز کورونا وائرس کی وبا سے قبل بے روزگار ہوئے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ مجموعی طور پر دنیا بھر میں اب تک 50 سے 55 ہزار پاکستانی نوکریوں سے نکالے گئے لیکن ان میں زیادہ تر یعنی 36 ہزار سمندر پار پاکستانی وبا سے پہلے بے روزگار ہوئے۔

انہوں نے کہاکہ صرف سعودی عرب میں 10 ہزار پاکستانی نوکریوں سے محروم ہوئے تاہم اس میں 5 ہزار 100 ورکرز وبا سے قبل بے روزگار ہوئے۔انہوں نے کہا یہ اتنی بڑی تعداد نہیں لیکن جس معاملے پر زیادہ توجہ دینی ہے وہ ان افراد کی تعداد ہے جنہیں چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔زلفی بخاری نے بتایا کہ جن افراد افرادکو چھٹیوں پر بھیجا گیا ہے انہیں یا تو نصف تنخواہیں ادا کی گئیں یا بالکل کوئی تنخواہ ادا نہیں کی گئی البتہ انہیں نوکریوں سے نہیں نکالا گیا۔انہوںنے کہاکہ یہ حساس اعداد و شمار ہیں اس لیے دبئی آنے کا مقصد یہ تھا کہ جن افراد کو چھٹیوں پر بھیجا گیا ہے انہیں نوکریوں پر واپس بھجوانے کی کوشش کی جائے۔معاون خصوصی نے کہا کہ ایک لاکھ 2 ہزار افراد ایسے ہیں جو تمام تر لوازمات پورے کر کے بیرونِ ملک نوکری پر جانے کے لیے تیار ہیں تاہم فضائی حدود کے علاوہ وبا کے باعث نوکریوں کے مواقع بھی بند ہیں،ان کے مطابق جس معاملے کو سائنسی طریقے سے حل کرنا ہے وہ یہ کہ وبا کے بعد نوکریاں کھلنے پر ان ایک لاکھ 2 ہزار افراد کو ملازمت پر بھیجا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ 18 ماہ میں 9 لاکھ 70 ہزار افراد کو بیرونِ ملک بھیجا۔زلفی بخاری نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی ایپلی کیشن لانچ کی گئی ہے جس میں نوکریوں سے محروم 50 ہزار پاکستانی ورکرز نے اپنا اندراج کیا ہوا ہے جن کی قابلیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نوکریاں ڈھونڈنے میں مدد کی جارہی ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ ٹیفٹا اور نیفٹا کے ساتھ ایم او یو سائن کیا گیا ہے جس کے تحت ان کی اسکلز بہتر بنائی جارہی ہیں اس طرح جب بیرونِ ملک نوکریوں کی طلب ہوگی تو ہم صحیح قابلیت کے افراد بھجواسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ احساس پروگرام کی شرط ہے کہ پاسپورٹ ہولڈرز اس پروگرام میں شمولیت اختیار نہیں کرسکتے اس لیے پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشتر کو ایک دفعہ کے استثنیٰ کی درخواست بھیجی ہے تا کہ نوکریوں سے محروم مزدوروں کو مدد فراہم کی جاسکے۔زلفی بخاری نے کہا کہ ہم نے بیرونِ ملک سے وطن واپس آنے والے افراد کی اسکلز، نوکریوں سے محرومی پر گرانٹ کے حوالے سے جے آئی زی کے ساتھ ایم او یو سائن کیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…