منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

تاریخ میں پہلی بار آٹا مہنگا ترین ہونے کا خدشہ،مارکیٹ سے گندم غائب ہونا شروع ملک میں افراتفری کا خدشہ،وزارت فوڈ سکیورٹی نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 20  جولائی  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)کورونا وباء ،مہنگائی ،بے روز گاری اور ملکی معاشی بدحالی میں چینی بحران کے بعد گندم بحران بھی سر اٹھانے لگا ،ملکی تاریخ میں پہلی بار آٹا سب سے مہنگا ترین ہونے کا امکان ہے ،عوام نے آٹا بحران کے پیش نظر گندم ذخیرہ کرنا شروع کر دی ، حکومت کی جانب سے قبل از وقت اقدامات نہ کرنے پر ملک میں افراتفری کا خدشہ ہے ۔

خبر رساں ایجنسی کے پاس دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت فوڈ سکیورٹی کی جانب سے وزیر اعظم کو بھجوائی گئی سمری نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ، گندم ملکی ضرورت پورا کرنے کے لیے موجود نہیں،گندم کی فصل آتے ہی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ ملک میں 26 ملین ٹن گندم موجود ہے جبکہ 27 ملین ٹن سے زائد گندم کی ضرورت ہو گی، دستاویزات کے مطابق گندم کا شارٹ فال 14 لاکھ ٹن ہے،سندھ میں گندم کی قیمت 1450 سے 1550 روپے فی من رہی جبکہ پنجاب میں 1600 روپے فی من تک کسانوں سے خریدی گئی،بیرون ملک سے درآمد کردہ گندم بغیر ڈیوٹی اور ٹیکسز کے 1929 روپے فی من پڑے گی،درآمد گندم کے ملتان تک ٹرانسپورٹیشن چارجز فی من 100 روپے پڑیں گے، بلیک سی ریجن ممالک سے بغیر ڈیوٹی اور ٹیکسز سے 1794 روپے فی من پڑے گی۔ دستاویزات کے مطابق گندم کی فصل آنے کے بعد اکتوبر میں فلور ملوں کو گندم ریلیز کی جاتی تھی تاہم تاریخ میں پہلی بار گندم 3 ماہ پہلے ہی فلور ملوں کو جاری کرنا پڑ گئی ہے ۔ دستاویزات کے مطابق صوبوں نے گندم مانگنا شروع کر دی ہے ،سندھ حکومت نے وفاق سے گندم کی ڈیمانڈ کیلئے سمری بھجوادی ہے ۔

خیبر پختونخواہ میں بھی آٹے بحران کا شدید ہے ، صوبائی حکومتوں نے بھی وفاق کو آٹے بحران سے متعلق قبل از وقت آگاہ کر دیا ہے اور بحران کے حل کیلئے فوری طور پر ایک ایک لاکھ ٹن گندم مانگی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ عوام کی بڑی تعداد نے آٹا بحران کے پیش نظر گندم ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے جو آٹے بحران کو تقویت دے رہا ہے ، مارکیٹ میں آٹا ابھی سے غائب ہونا شروع ہوگیا ہے اس صورت میں حال میں آٹے بحران کا شدید خطرہ لاحق ہے ،حکومت کی جانب سے قبل از وقت اقدامات نہ کئے گئے تو غریب عوام آٹا ملنے کو بھی ترس جائیں گے اورملک میں افراتفری کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے وفاقی حکومت اور اداروں کیلئے تشویش کا باعث ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…