منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اندرون خانہ نئی مسلم لیگ بنانے کی کوششیں ، ن لیگ کا باضابطہ ردعمل آگیا، دو ٹو ک اعلان کردیا

datetime 19  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے منصفانہ الیکشن کراکے عوامی نمائندہ اہل حکومت لائی جائے، اب نئے انتخابات کے علاوہ دیگر آپشن غیر حقیقی ہیں،نئی مسلم لیگ بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔

ن لیگ صرف نواز شریف کے نظریے پر قائم ہے اور صرف مسلم لیگ ن کے پاس ایسی اقتصادی ٹیم ہے جو ڈیلیور کر سکتی ہے،خدشہ ہے کہ کہیں دیامر بھاشا ڈیم دوسرا نیلم جہلم بن کر ملک کی معیشت کو کھا جائے گا۔ایک انٹرویومیں احسن اقبال نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر کام شروع ہونا خوشی کی بات ہے مگر خدشہ ہے کہ بھاشا ڈیم دوسرا نیلم جہلم بن کر معیشت کو نا کھا جائے، ۔احسن اقبال نے کہا کہ ڈیم کیلئے پی ایس ڈی پی میں صرف 16 ارب رکھے جو طے رقم سے بھی 12 ارب کم ہیں اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ بھاشا ڈیم منصوبے کی فنانشل کلوزنگ نہیں کی گئی۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم منصوبے کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں، مگر تحفظات ہیں کہ یہ منصوبہ مکمل نہیں کر سکیں گے۔ن لیگی رہنما نے بتایا کہ ہم نے بھاشا ڈیم کیلئے 124 ارب روپے سے زمین حاصل کی تھی اور 28 ارب ڈالر کے منصوبے بغیر سی پیک اتھارٹی کے بنائے، یہاں تک کہ ن لیگ کے دورمیں ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب تھا، اب ساڑھے 5 سو ارب روپے ہے۔احسن اقبال نے وزیراعظم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کپتان کے وژن نے ملک کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے، حکومت دانستہ قومی اداروں کو ہر چیز میں دھکیل رہی ہے جبکہ قومی اداروں کو بھی احساس کرنا چاہیے کہ ان کے لیے صرف زندہ باد ہو۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے آرڈیننس کی معیاد ختم ہو چکی، اتھارٹی خلا کے اندر ہے، یہ نئے مسودے سے اتھارٹی کو وزیراعظم سے بھی بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔نئی مسلم لیگ بنانے سے متعلق احسن اقبال نے کہا کہ نئی مسلم لیگ بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، ن لیگ صرف نواز شریف کے نظریے پر قائم ہے اور صرف مسلم لیگ ن کے پاس ایسی اقتصادی ٹیم ہے جو ڈیلیور کر سکتی ہے۔انہوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے منصفانہ الیکشن کراکے عوامی نمائندہ اہل حکومت لائی جائے، اب نئے انتخابات کے علاوہ دیگر آپشن غیر حقیقی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…