جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد کتنے کروڑ وںتک جا سکتی ہے؟ کروناکیلکولیٹرمیں خوفناک انکشافات سامنے آگئے

datetime 3  جولائی  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کورونا وائرس تیزی سے پھیلا ہے اور اب تک ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔اس صورتحال میں حکومت ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسپتالوں میں دستیاب علاج کی سہولیات کو بھی بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت کا خیال ہے کہ

پاکستان میں کورونا کے مریضوں کے تعداد حکومت کے پاس موجود اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہے کیونکہ بہت سے مریض ایسے بھی ہیں جن میں کورونا علامات موجود نہیں ہیں مگر ان میں وائرس موجود ہے۔اسی لیے ملک میں اس وقت مریضوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔مندرجہ ذیل انٹریکٹیو ماڈل پاکستان کی کل آبادی میں متاثرہ مریضوں کی شرح کے لحاظ سے یہ بتاتا ہے کہ ملک میں مجموعی طور پر کورونا وائرس کے کتنے کیسز ہو سکتے ہیں۔آپ خود اس کیلکولیٹر کے ذریعے متاثرہ افراد یعنی مریضوں کا تناسب کم یا زیادہ کرکے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کے دیہی یا شہری علاقوں میں اس کا کتنا اثر ہو گا اور وہاں مریضوں کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے۔اہم مفروضات:اس ماڈل کے لیے پاکستان کی آبادی 21 کروڑ 20 لاکھ تصور کی گئی ہے جس میں 62 فیصد کو 18 سال سے زیادہ عمر کا تصور کیا گیا ہے۔اہم مفروضات:پاکستان کی کل آبادی: 212,000,000، وائرس کے خطرے میں کل آبادی: 131,440,000،کتنی شہری آبادی کو خطرہ لاحق: 47,844,160، کتنی دیہی آبادی کو خطرہ لاحق: 83,595,840۔ تصور بھی یہی کیا گیا ہے کہ یہ افراد (یعنی 18 سال سے زائد عمر کی آبادی) کو کورونا وائرس لاحق ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے جب کہ نتائج کو آسان بنانے کے لیے صفر سے 18 سال عمر کے گروپ کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اسی طرح ملک کی کل آبادی میں شہری آ بادی کا تناسب 36.4فیصد جب کہ دیہی آبادی کا تناسب 63.6 فیصد رکھا گیا ہے۔اس ماڈل کے تحت شہری علاقوں میں انفیکشن کا تناسب (ڈیفالٹ) 10 فیصد جب کہ دیہی علاقوں میں 3.5 تصور کیا گیا ہے۔یعنی یہ تصور کیا گیا ہے کہ شہروں میں ہر 10 میں سے ایک شخص کو کورونا وائرس لگنے کا خطرہ ہے جب کہ دیہی علاقوں میں ہر 30 میں سے ایک شخص

اس وائرس سے متاثر ہو سکتا ہے۔شہروں میں وائرس لگنے کا تناسب اس لیے زیادہ رکھا گیا ہے کیونکہ لوگ زیادہ قریب رہتے ہیں یا گنجان آباد علاقوں میں بستے ہیں اوراس لیے وہاں وائرس پھیلنے کے امکانات زیادہ ہیں۔مندرجہ بالا تناسب پر اگر یقین کیا جائے تو پاکستان میں مجموعی طور پر 77 لاکھ 10 ہزار افراد اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ نمبر صرف اندازوں پر مشتمل ہے اور ہرگز کورونا وائرس کے اصل کیسز کی تعداد کے طور پر نہ لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…