پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

’’ آپ سے ریلوے نہیں چل رہی ہے، چھوڑدیں ریلوے‘‘ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا، جانیں جاتی ہیں یا کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔۔چیف جسٹس نے شدید  برہم ہوتے ہوئے کیا بڑا حکم جاری کر دیا 

datetime 12  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے اس میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ریلوے ملازمین کی سروس مستقلی کے حوالے سے دائر مختلف

درخواستوں کی سماعت کی جس سلسلے میں سیکرٹری ریلوے عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے سیکرٹری ریلوے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دور میں ریلوے کے کتنے حادثے ہوئے ہیں، آپ سے ریلوے نہیں چل رہی ہے، چھوڑدیں ریلوے، آج سے آپ سیکرٹری ریلوے نہیں ہیں، پرسوں جو نقصان ہوا بتا دیں اس کی ذمہ داری کس کی ہے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ میں وفاقی ملازم ہوں کہیں اورچلا جاؤں گا۔اس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں کرسی میں بیٹھ کر کام کریں، فیلڈ پر جا کر اپنے ملازمین کو دیکھیں، ریلوے کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریلوے میں ٹوٹل کتنے ملازمین ہیں، اس پر سیکرٹری نے بتایا کہ ریلوے میں 76 ہزار ملازمین ہیں، 142 مسافر ٹرینیں اور 120 گڈز ٹرینیں چل رہی ہیں، اس وقت کرونا کی وجہ سے 43 مسافر ٹرینیں فعال ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ نے 76 ہزار ملازمین رکھے ہیں، ریلویکا نظام چلانے کیلئے تو 10 ہزار کافی ہیں، آپ کی ساری فیکٹریاں اور کام بند پڑا ہوا ہے تو یہ ملازمین کیا کر رہے ہیں۔سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ 6 نکات پراصلاحات کررہے ہیں، 76 ہزار ملازمین کا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا ہی موجود نہیں ہے۔سیکرٹری کے جواب پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمارے سامنے تقریر نہ کریں ہمیں سب پتہ ہے ریلوے میں کیا ہورہا ہے، ریلوے میں یا تو جانیں جاتی ہیں یا پھر خزانے کو کروڑوں کا نقصان ہوتا ہے۔عدالت نے ایک ماہ میں ریلوے سے متعلق آپریشن اور ملازمین کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…