شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری ، احتساب بیورو کی ٹیم شہبازشریف کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئی

  منگل‬‮ 2 جون‬‮ 2020  |  18:42

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم ان کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئی ہے۔نجی ٹی وی نیوز چینل ہم نیوز نے ذمہ دار کے مطابق  نیب لاہور کی ٹیم نے ن لیگ کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کو وارنٹ گرفتاری دکھا دیے ہیں۔ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی رہائش گاہ پر پہنچ چکی ہے۔اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا ہے کہ میاں شہباز شریف اپنی رہائش گاہ پر موجود ہی نہیں ہیں۔ اس


سلسلے میں شریف خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب صبح پیشی پر گئے تھے لیکن اس کے بعد واپس نہیں آئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اس وقت کہاں ہیں؟ معلوم نہیں ہیں کیونکہ کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ کی تلاشی خواتین پولیس اہلکاروں کی مدد سے لی جا رہی ہے۔رہائش گاہ میں داخل ہونے والی نیب ٹیم کے ساتھ گاڑی بھی موجود ہے۔ لاہورپولیس کی بھاری نفری بھی رہائش گاہ کے باہر موجود ہے۔ نیب لاہورمیں عدم پیشی پر پولیس کی بھاری نفری قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے۔نیب نے میاں شہباز شریف کو آج طلب کیا تھا لیکن انہوں نے پیش ہونے کے بجائے اپنے نمائندے محمد فیصل کے ذریعے اثاثہ جات کے حوالے سے تفصیلی جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا کہ شہباز شریف ہائیکورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی تاریخ نہ ملنے کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے گزشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں گرفتاری کے خدشے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں عبوری درخواست ضمانت دائر کی تھی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جناب جسٹس محمد قاسم علی نے شہباز شریف کی درخواست کو تین جون کو سماعت کے لیے مقررکیا ہے۔شہباز شریف کی جانب سے درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تمام اثاثے ڈکلیئر ہیں اور نیب کے پاس منی لانڈرنگ کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں لہذا گرفتاری سے روکا جائے۔میاں شہباز شریف کی جانب سے نیب میں جمع کرائی گئی جواب کی کاپی بھی منظرعام پرآ گئی ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ کورونا وائرس اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ نیب کے کچھ افسران بھی کورونا کا شکار ہو چکے ہیں جب کہ میری عمر 69 سال ہے اور کینسر کا مریض ہوں۔ انہوں نے کہا ہے کہ نیب کی تحقیقاتی ٹیم مجھ سے اسکائپ کے ذریعے سوالات کر سکتی ہے۔


موضوعات: