بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کا شوگر انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کے بعد ایک اور بڑا فیصلہ، کابینہ میں شامل مشیروں اور معاونین خصوصی کو اثاثے ظاہر کرنے کا حکم دے دیا

datetime 21  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے ایک اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کابینہ میں شامل مشیروں اور معاونین نے خصوصی کو اثاثے ظاہر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شوگر انکوائری کمیشن کے سربراہ ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے چینی کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔واجد ضیاء نے چینی بحران کی فرانزک رپورٹ پر وفاقی کابینہ کو بریفنگ بھی دی۔

کابینہ کو شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ سے متعلق بتایا گیا کہ شوگر ملز نے کتنی چینی پیدا کی۔ چینی کہاں کہاں فروخت کی کتنا سٹہ لگایا، اس سب سے متعلق فرانزک آڈٹ رپورٹ میں تفصیلات شامل ہیں۔ شوگر انکوائری رپورٹ کو پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اور اس کے بعد وزیراعظم کی جانب سے ایک اور بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا۔وزیراعظم نے کابینہ میں شامل تمام مشیروں اور معاونین خصوصی کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے کا حکم دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حکم دیا کہ تمام مشیر اور معاون خصوصی اپنے اثاثے فوری طور پر کابینہ ڈویڑن میں ڈکلیئر کریں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر منتخب ایڈوائزر بھی اپنے اثاثے ظاہر کریں گے۔واضح رہے کہ وفاقی وزیر غلام سرور کی جانب سے کابینہ میں شامل معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا.انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ کابینہ میں ایسے لوگ بھی بیٹھے ہیں جنہیں وہ بھی نہیں جانتے۔غلام سرور نے کہا کہ کابینہ کے کچھ ارکان دوہری شہریت رکھتے ہیں وہ کہاں سے آئے کسی کو پتا نہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنا بیک گراونڈ اور اثاثے ظاہر کرنے چاہیے۔ایسے لوگوں کے آمدن کے ذرائع بھی سامنے آنے چاہیے۔ماضی میں بھی لوگ بیگ اٹھا کر کابینہ میں آئے اور بیگ اٹھا کر واپس چلے گئے۔پارٹی ممبرز کے اثاثے ڈکلیئر ہیں اوراصولاََ ان تمام معاون خصوصی کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے،ورنہ کابینہ پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔غلام سرور نے کہا کہ ایسے لوگوں کو کوئی نہیں جانتا یہ بیگ اٹھا کر آتے ہیں اور بیگ اٹھا کر چلے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…