جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پاکستان نے جوہری توانائی پروگرام بڑھانے کیلئے آئی اے ای اے سے مدد مانگ لی

datetime 7  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن ) پاکستان نے اپنے جوہری توانائی کے پروگرام کو مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مدد مانگ لی کیونکہ ملک بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے جوہری قوت کو بڑھا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جوہری قوت کو وسیع کرنے میں مدد کے لیے آئی اے ای اے نے موجودہ قومی تکنیکی تعاون کے 4 منصوبوں کو ایک منصوبے پر یکجا کیا ہے۔

جس میں پاکستان کے جوہری توانائی کے پروگرام میں ملوث ریگولیٹرز، آپریٹرز، ویسٹ مینیجرز اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹرز شامل ہیں۔پاکستان کے لئے آئی اے ای اے کی حمایت کا مقصد اگلے دہائی کے دوران ایٹمی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو 6 گنا، 1430 میگاواٹ سے 8800 میگاواٹ تک سے زیادہ بڑھانا ہے جس پر پاکستان کے ایٹمی بجلی پروگرام میں شامل ریگولیٹرز، آپریٹرز اور نمائندوں نے تبادلہ خیال کیا جو ویانا میں آئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹر میں حال ہی میں اکٹھا ہوئے تھے۔آئی اے ای اے، پاکستانی جوہری توانائی پروگرام کے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر رہے تاکہ ان کے کام کو آسان بنانے، تاخیر اور اخراجات کو کم کرنے، تعاون کو بڑھانے اور ان کی حفاظت اور فضلہ کے انتظام کے طریقوں کو ہم آہنگ کیا جاسکے’۔پریس ریلیز کے مطابق چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ٹیکنیکل کوآرڈینیشن ڈویژن کے منیجر احمد ندیم کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان نے آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات اور دیگر تکنیکی دستاویزات سے فائدہ اٹھایا ہے تاہم اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے’۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘پاکستان کے جوہری بجلی گھروں کی حفاظت، استحکام اور پائیداری کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہم نے جامع اور مربوط قومی منصوبے کے لیے آئی اے ای اے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا’۔

ایٹمی سائنس، اس کا استعمال استعمال اور توانائی کے ساتھ کام کرنے کی پاکستان کی طویل تاریخ موجود ہے، یہ چھٹا ملک تھا جس نے آئی اے ای اے قانون کی توثیق کی اور ایسا کرتے ہوئے اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پاکستان نے درکار 18 منظوریوں میں میں سے ایک منظوری فراہم کی تھی۔مزید یہ کہ ‘پپاکستان نیوکلیئر پاور کمپلیکس (کے این یو پی پی) کے قیام کے بعد ہی پاکستان کا قومی جوہری توانائی پروگرام 1972 سے موجود ہے اور اس وقت ملک ملک میں میانوالی اور سندھ کے جنوب مشرقی ضلع میں منصوبوں کے ساتھ 5 کمرشل جوہری پلانٹس موجود ہیں۔پاکستان نے بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے 2050 تک متعدد نئے پلانٹس لگانے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…