جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

جولائی سے فروری کے درمیان ٹیکس اہداف میں ریکارڈ شارٹ فال،ایف بی آر کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ (جولائی سے فروری کے درمیان) ٹیکس اکٹھا کرنے کا اہداف پورا نہیں کرسکا اور اس میں 484 ارب روپے کی کمی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق فراہم کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے اس عرصے کے دوران 32 کھرب 9 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 27 کھرب 25 ارب روپے جمع کیے ہیں۔

تاہم  اعدادوشمار میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران اکٹھا ہونے والے 23 کھرب 42 ارب روپے کے مقابلے میں 16.35 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔فروری میں ایف بی آر نے اس ماہ کے 417 روپے کے ہدف کے مقابلہ میں 3 سو 18 ارب روپے جمع کرکے 99 ارب روپے کا شارٹ فال کیا، ٹیکس اتھارٹی کا تخمینہ ہے کہ وہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں میں 1 سے 2 ارب روپے مزید جمع کرلے گا۔ٹیکس سال 2019 میں ریٹرن فائلرز کی تعداد گزشتہ سال کے 29 لاکھ کے مقابلہ میں 24 لاکھ 40 ہزار سے زائد ہوگئی۔سالانہ ہدف تک پہنچنے کے لے موجودہ نمو میں دگنا اضافے کی ضرورت ہوگی۔ ایف بی آر کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔نئے فعال ٹیکس دہندگان کی فہرست کو ٹیکس سال 2018 سے لے کر 2019 میں تبدیل کیا جائے گا جو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہوجائے گی۔نتیجتاً 4 لاکھ ٹیکس دہندگان نے ٹیکس سال 2019 میں اپنا گوشوارہ جمع نہیں کرایا تاہم ترجمان نے کہا کہ جن لوگوں نے اس سال ریٹرن فائل نہیں کیا وہ گزشتہ سال نِل فائلرز تھے۔ایف بی آر کے اعلیٰ عہدیداران کا ماننا ہے کہ ایف بی آر میں اعلی عہدوں پر افسران اور چیئرمین تقرری میں تاخیر نے محکمہ ٹیکس کے اندر غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس میں کمی آرہی ہے۔

خیال رہے کہ ایف بی آر چیئرمین شبر زیدی غیر معینہ مدت کی چھٹی پر ہیں اور حکومت نے رکن انتظامیہ محترمہ نوشین امجد کو انچارج دے دیا ہے۔جنوری سے ٹیکس کے معاملات روزانہ کی بنیاد پر سنبھالے جارہے ہیں جس کی وجہ سے محصولات کی وصولی میں مستقل کمی واقع ہوتی ہے۔حکومت نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو کے طور پر ہارون اختر خان کی تقرری کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے تاہم نوٹیفکیشن میں تاخیر کے سبب فیلڈ فارمیشنز میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…