پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

امریکی فوجیوں کی لاشیں ایک ہی شرط پر مل سکتی ہیں،طالبان نے افغانستان میں لاشیں اٹھانے کیلئے آنیوالے امریکیوں کو مار بھگایا‎

datetime 29  جنوری‬‮  2020 |

غزنی،کابل (مانیٹرنگ ڈیس ، این این آئی ) طالبان نے افغانستان میں لاشیں اٹھانے کے لیے آنے والے امریکی اہلکاروں کو مار بھگایا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے افغانستان کے صوبے غزنی میں اپنے فوجی طیارے اور فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کے لیےآپریشن کیا تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی فوجیوں کی لاشیں لینے کے لیے آنے والوں کو مار بھگایا۔

برطانوی نیوز ایجنسی نے امریکی محکمہ دفاع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے اپنے دو فوجیوں کی لاشیں حاصل کرنے کے لیے کئی حملے کیے تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکا اور افغان فورسز نے غزنی کے علاقے کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی تاہم ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہم امدادی ادارے کو جائے وقوعہ پر لاشیں اٹھانے کی اجازت دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے عینی شاہد نے جائے وقوعہ پر 6 لاشیں دیکھی تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔دریں اثنا عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ روز افغانستان میں پیش آنے والے طیارے کے حادثے میں جنرل قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث امریکی سی آئی اے ٹیم کا سربراہ ہلاک ہوگیا۔عرب ٹی وی کے مطابق افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دیے گئے بیان میں کہا کہ دشمن کا انٹیلی جنس طیارہ تباہ ہوگیا جس میں امریکی سی آئی اے کے انتہائی اہم لوگ بھی مارے گئے۔روسی انٹیلی جنسی حکام نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز افغانستان میں گرنے والے طیارے میں ایران میں امریکی سی آئی اے آپریشنز کے سربراہ ڈی اینڈرا بھی مارے گئے۔

روسی انٹیلی جنس حکام کا کہناتھا کہ ڈی اینڈرا ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے میں ملوث تھے اور ایران کے لیے امریکی سی آئی کے آپریشنز کے سربراہ تھے۔عرب میڈیا کے مطابق ڈی اینڈرا کو 2017 میں ایران مشن سینٹر کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا اور وہ خطے میں سی آئی اے کے انتہائی اہم ممبر سمجھے جاتے تھے۔ تباہ ہونے والے اس طیارے کو ڈی اینڈرا کے لیے امریکی سی آئی اے کی موبائل کمانڈر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔

جب کہ ڈی اینڈرا کو آیت اللہ مائیک، ڈارک پرنس اور انڈر ٹیکر کے ناموں سے بھی جانا جاتا تھا۔گزشتہ روز افغان طالبان نے صوبہ غزنی میں ایک طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جس کے مطابق کہا گیا مذکورہ طیارہ امریکی انٹیلی جنس تھا۔افغان حکام نے طیارے سے متعلق ابتدا میں دعویٰ کیا تھا یہ طیارہ افغانستان کی سرکاری ائیرلائن کا ہے تاہم ائیرلائن کی جانب سے اس کی تردید کی گئی گئی تھی۔دوسری جانب امریکی افواج نے افغان طالبان اور روسی انٹیلی جنس حکام کے دعوے کی تردید کردی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی افواج کے ذرائع کا کہناہے کہ افغانستان میں تباہ ہونے والے طیارے میں سی آئی اے کا کوئی ممبر موجود نہیں تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…