ن لیگ نے الیکشن کمیشن کے ارکان اور آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی قانون سازی کے عمل سے باہر رہنے کا اعلان کر دیا،پیپلزپارٹی کیا کرے گی؟چیئرمین نیب کا اشارہ کس طرف تھا؟کیا واقعی اب حکومت کی باری بھی آرہی ہے؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

  پیر‬‮ 9 دسمبر‬‮ 2019  |  21:50

ن لیگ نے الیکشن کمیشن کے ارکان اور آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی قانون سازی  کے عمل سے باہر رہنے کا اعلان کر دیا، پیپلزپارٹی کیا کرے گی؟چیئرمین نیب کا اشارہ کس طرف تھا؟ کیا واقعی اب حکومت کی باری بھی آرہی ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے‘ ملک میں اسلام کی روح کے خلاف کوئی قانون بھی نہیں بن سکتا، وزیراعظم اس ملک کو ریاست مدینہ بھی بنانا چاہتے ہیں لیکن مستقبل کی اس ریاست مدینہ کی مذہبی امور کی وزارت نے آج قومی اسمبلی میں انکشاف کیا حکومت حاجیوں کی رقم بینک میں رکھتی ہے


اس پر سود لیتی ہے اور یہ سود حاجیوں کی ویکسی نیشن، ٹریننگ، ادویات اور میڈیا کمپیئن پر خرچ کرتی ہے‘ وزارت نے پچھلے سال 21 کروڑ روپے اور پانچ سال میں ایک ارب 17 کروڑ روپے سود اکٹھا کیا، آپ اس ایک واقعے سے ریاست مدینہ کے بارے میں ہماری سنجیدگی کا اندازہ کر لیجیے‘ آپ اسلامی جمہوریہ کی سپرٹ بھی چیک کر لیجیے، باقی آپ خود سمجھ دار ہیں، ن لیگ نے الیکشن کمیشن کے ارکان اور آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی قانون سازی کے عمل سے باہر رہنے کا اعلان کر دیا تاہم بلاول بھٹو نے اس اعلان پر تامل کا اظہار کیا‘ کیا حکومت اور اپوزیشن ڈیڈ لاک کی طرف بڑھ رہے ہیں، چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے ایک بار پھر ہواؤں کے رخ کی تبدیلی کی نوید سنا دی، کیا واقعی حکومت کی باری بھی آ رہی ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا ایشو وفاقی حکومت کوریفر کر دیا۔


موضوعات: