اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پی ٹی آئی فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کی بدنیتی سامنے آگئی، الیکشن کمیشن نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کی درخواستوں کو غیر سنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا۔ جمعرات کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک ہونے سے متعلق درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

تفصیلی فیصلے میں الیکشن کمیشن نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی درخواستیں غیرسنجیدہ اور بدنیتی پر مبنی ہیں لہذا انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔فیصلے میں لکھا گیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کو دانستہ طور پر کارروائی سے محروم نہیں کیا گیا، اسکروٹنی کمیٹی نے ہمیشہ پی ٹی آئی کے نمائندے اور وکیل کو سماعت کی تاریخ سے آگاہ رکھا، ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی غیر جانبدار رہی۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ شکایت کنندہ کو اسکروٹنی کمیٹی سے نکالنے کی درخواست مناسب نہیں، شکایت کنندہ نے کمیٹی کو ثبوت مہیا کرنے ہیں اور شکایت کنندہ پر جانبدار ہونے کا الزام قبل از وقت ہے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کا یہ مؤقف غلط ہیکہ شکایت کنندہ کو اسٹیٹ بینک کے مہیا کردہ اکاؤنٹس کی اسکروٹنی سے نکالا جائے کیونکہ یہ بینک اکاؤنٹس اکبر ایس بابر کی شکایت پر ہی سامنے آئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اسکروٹنی میں تاخیر کرنا جواب دہندہ کا بنیادی مقصد رہا ہے اور اسکروٹنی کمیٹی کی کارروائی لیک کرنے سے متعلق پی ٹی آئی کے وکیل ویڈیو ریکارڈنگ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔فنڈنگ کیس کے فیصلے میں ہے کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کی جانب سے کیس میں تاخیر کرنے کے مسائل کا سامنا ہے۔

ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ شکایت کنندہ نے پی ٹی آئی کو ابھی تک کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے میں لکھا گیا کہ تحریک انصاف کو ممنوع غیر ملکی فنڈنگ کا ریاست سے براہ راست تعلق ہے، اس کیس میں ریاست بھی ایک اہم شراکت دار ہے۔تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ پی ٹی آئی کے وکیل ثقلین حیدر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل تعینات کیا گیا ہے، ثقلین حیدر کو اس کیس میں ریاست کے مفاد کے خلاف، سیاسی جماعت کی جانب سے پیش ہونے کا حق نہیں ہے لہذا ثقلین حیدر ریاست کے مفاد کا تحفظ کرے نا کہ سیاسی جماعت کے حقوق کا۔ای سی پی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ثقلین حیدر کو ڈپٹی اٹارنی جنرل بننے کے بعد سیاسی جماعت پر ریاست کو فوقیت دینی چاہیے، پارٹی فنڈنگ کیس قانونی طریقہ کار کے بے جا استعمال کرنے کی بدترین مثال ہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمیٹی اسکروٹنی جاری رکھے اور رپورٹ جلد از جلد جمع کرائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…