جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

فضل الرحمن کااسلام آباد میں دھرنا، حکومت نے خاموشی سے ایسا کیا کام شروع کردیا جو مولانا کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی)قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے فنڈنگ کرنے والوں کے کوائف جمع کرنے شروع کردیئے ہیں جبکہ پنجاب میں جے یوآئی (ف)کے اہم رہنماؤں کی نقل وحرکت پرنظربھی رکھی جارہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علما اسلام(ف)کے آزادی مارچ اوردھرنے کے لیے پارٹی کارکنوں سمیت تاجروں اورکاروباری طبقے سے بھی فنڈزلئے جارہے ہیں۔ حساس اداروں سمیت دیگرمحکموں نے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے بڑے پیمانے پرفنڈنگ کرنیوالے تاجروں، کاروباری شخصیات کا سراغ لگانا شروع کردیا ہے۔ حساس اداروں کوشبہ ہے کہ پنجاب میں چند بڑی کاروباری شخصیات جو مسلک کی بنیاد پر مولانا فضل الرحمان کے حامی ہیں ان کی طرف سے آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے لاکھوں روپے کے فنڈزاوردیگرسہولیات فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کئی تاجراوربڑے دکاندار بھی آزادی مارچ اوردھرنے کے لئے فنڈنگ کررہے ہیں لیکن ان کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہیں جب کہ جے یوآئی(ف)بھی ان کے نام ظاہرنہیں کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق اگرحکومتی کمیٹی اورمولانا فضل الرحمن کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے اورمولانا فضل الرحمن مارچ اوردھرنے کی ضد پرقائم رہتے ہیں تو پھرجماعت کے اہم رہنماؤں کو حراست میں لے کرنظربند کیا جاسکتا ہے۔حساس ادارے اس بات کا بھی سراغ لگارہے ہیں کہ تاجروں، کاروباری شخصیات اورجے یوآئی(ف)کے اہم رہنماؤں کے علاوہ مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی سمیت مولانا فضل الرحمان کی ہم نوا دیگرجماعتوں کی طرف سے مارچ اوردھرنے کی لئے کس قدر فنڈنگ کی جاتی ہے اوروسائل مہیا کیے جاتے ہیں۔

جمعیت علما اسلام (ف)پارٹی کارکنوں، دینی مدارس کے طلبا اورعام شہریوں سے ختم نبوت آزادی مارچ کے نام پرفنڈزجمع کررہی ہے۔ اس مقصد کے لئے باقاعدہ کوپن چھپوائے گئے تھے اوریہ سلسلہ تقریبا دوماہ پہلے شروع ہواتھا جوابھی تک جاری ہے۔ جے یوآئی(ف) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مارچ اوردھرنے کے لئے کسی سے غیرقانونی فنڈنگ نہیں لی جارہی ہے، ہرضلع کے کارکن اورقافلے اپنے اخراجات خودبرداشت کرتے ہوئے مارچ اوردھرنے میں شریک ہوں گے،مرکزی پروگرام کے اخراجات جمعیت اوراس کی ذمہ داران خود کرررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…