ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

شیخ رشید کے قافلے کیلئے شہریوں کی موٹرسائیکلوں کو گرا کرجگہ بنانے والے ٹریفک وارڈن کو ایسی سزا سنا دی گئی کہ آئندہ کوئی بھی اہلکار ایسا کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

راولپنڈی(اے این این ) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو راولپنڈی کے بوہڑ بازار میں موٹر سائیکل کی غلط پارکنگ ناگوار گزری اور وفاقی وزیر کے پروٹوکول کی گاڑیوں کا راستہ بنانے کے لیے ٹریفک وارڈن نے راستے میں کھڑی موٹر سائیکلیں گرادیں، جس پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔

میڈیا رپورٹس کے گزشتہ روز وزیر ریلوے شیخ رشید لال حویلی جانے کے لیے بوہڑ بازار سے گزرے تو راستے میں کھڑی موٹر سائیکلوں کی غلط پارکنگ انھیں ناگواری گزری۔ اس موقع پر شیخ رشید اور تاجروں کے درمیان بھی تلخ کلامی ہوئی ،اس موقع شیخ رشید نے تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو پتہ نہیں میں وزیر ہوں لحاظ کر رہا ہوں ورنہ یہ سارے موٹر سائیکل اٹھوا بھی سکتا ہوں ۔جس پر تاجروں نے کہا کہ ہم خود بھی تجاوزات کے خاتمے کے حق میں ہیں لیکن سب کچھ اچھے طریقے سے ہونا چاہیے۔جو کچھ ہو رہا ہے یہ پہلے نہیں تھا۔اس موقع پر چند نوجوانوں نے نعرے بازی کی اور کہا کہ کیا یہ نیا پاکستان بنایا جا رہا ہے۔لوگوں کے بائیکس گرانے کا کون سا طریقہ ہے ۔اس موقع پر ٹریفک وارڈن شیخ رشید کی گاڑیوں کا راستہ بنانے کے لیے شہریوں کی موٹر سائیکلوں کو ہٹانے کی بجائے گراتا رہا۔ٹریفک وارڈن نے شیخ رشید کو بتایا کہ انہوں نے اسی وجہ سے تنگ آکر یہ موٹر سائیکلیں پھینکی ہیں۔دوسری جانب ٹریفک وارڈن کی جانب سے موٹر سائیکلیں گرانے کے خلاف شہریوں نے شدید احتجاج بھی کیا۔خبر میڈیا پر آنے پر چیف ٹریفک آفیسر محمد اشرف نے موٹر سائیکلیں گرانے والے وارڈن ریاض کو معطل کر دیا اور ان کیخلاف کارروائی کا حکم دیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…