ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دیدی جائے اگر۔۔۔سوشل میڈیا پرشدید تنقید کے بعد سلیم صافی سے رہا نہ گیا،عمران خان سے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 26  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دیدی جائے اگر۔۔۔سوشل میڈیا پرشدید تنقید کے بعد سلیم صافی سے رہا نہ گیا،عمران خان سے بڑا مطالبہ کردیامیری وزیراعظم سے گزارش ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے ۔اگر میرے خلاف کسی سے بھی پیسے لینا ثابت ہو جائے تو مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دے دی جائے۔معروف صحافی سلیم صافی کا مطالبہ ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چند روز قبل سلیم صافی نے

دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر وزیر اعظم عمران خاننے سابق وزیراعظم نواز شریف کے اخراجات کی تفصیلات طلب کیںجس پر انہیں بتایا گیا کہ نواز شریف اپنےا خراجات خود اپنی جیب سے ادا کرتے تھے، وزیر اعظم عمران خان کو اس حوالے سے چیکس بھی دکھائے گئے۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے ساتھیوں نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور سوشل میڈیا پر انکا خوب مذاق بنایا گیا۔ان کے ساتھ گزشتہ کچھ دنوں سے جو کچھ ہورہا ہے ،اس پر بات چیت کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئیے۔اس بحث کو سمیٹنے اور میڈیا پر اعتبار کو بحال کرنے کے لیے میری وزیراعظم سے گزارش ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔جو تمام مالکان اور ہم اینکرز کے اثاثوں کی چھان بین کرے اور بے شک اس کام کا آغاز مجھ سے کریں اور مجھ سے پوچھیں کہ آپ کے جو اثاثے ہیں ان کو ثابت کریں۔جب کہ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ ہم نے کسی حکومت یا کسی لیڈر سے پیسے لیے ہیں یا نہیں؟یہ بھی دیکھا جائے کہ ہم سے کون غیر ملکی سفارتخانوں میں جا کر بوتلیں اڑاتا ہے۔اور اس بات کی بھی تحقیق کی جائے کس صحافی نے کتنا ٹیکس دیا اور کس کس نے سرمایہ داروں سے پیسے لیے۔اگر میرے خلاف کسی بھی ایجنسی یا کہیں سے بھی پیسے لینا ثابت ہو جائے تو مجھے پارلیمنٹ کے سامنے پھانسی دے دی جائے اور باقیوں کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ان کا کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ وہ اپوزیشن نہیں بلکہ حکومتی جماعت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…