ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

مارکٹائی کر کے ترقیاں لینے والے پولیس افسران عدالت میں پیش ہوں‘ جسٹس ثاقب نثارنے بڑا حکم جاری کردیا ، آئی جی پنجاب بھی طلب

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے کیس میں امین وینس اور عمر ورک کو ذاتی حیثیت میں اور آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیاکہ سابق سی سی پی او امین وینس نے مرحوم شہری کے 80کروڑ مالیت کے کاروبار کو 40کروڑ میں فروخت کرنے کا زبردستی معاہدہ کرایا۔قانون کے تحت عدالت لگانا پولیس کا کام نہیں اور سابق ایس ایس پی عمر ورک نے اس سارے عمل میں معاونت فراہم کی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ یہ وہی سی سی پی او ہے جس کی زمینوں سے گزرنے والے نالے کا معاملہ بھی عدالت میں آیا تھا۔سرکاری وکیل نے جواب دیا جی بدو نالے والے معاملے میں بھی سابق سی سی پی او سے متعلق عدالت نے حکم دیا تھا۔سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے بتایا کہ سابق سی سی پی او امین وینس کا معاملہ نیب میں بھی ہے۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ یہ تو سیدھا سادھا نیب کا معاملہ ہے، مارکٹائی کر کے ترقیاں لینے والے پولیس افسران آج عدالت میں پیش ہوں، مقدمہ بھی درج کرائیں گے اور معاملے کو منطقی انجام کی طرف بھی بڑھائیں گے۔جسٹس ثاقب نثار نے سابق سی سی پی او امین وینس اور پولیس افسر عمر ورک کو ذاتی حیثیت میں اور آئی جی پنجاب کو بھی طلب کر لیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے کیس میں امین وینس اور عمر ورک کو ذاتی حیثیت میں اور آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پولیس افسران کی جانب سے اپنے دفتر میں عدالت لگا کر کاروبار کی تقسیم کے حوالے سے زبردستی معاہدہ کرانے کے معاملے کی سماعت ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…