منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

(ن)لیگ ،پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی میں کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کر لی ،دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیاجائیگا،بڑے فیصلے

datetime 11  اگست‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کر لی ہے جس پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا،خصوصی طور پر پہلے سیشن میں حاضری یقینی بنانے کیلئے اپوزیشن اراکین کے مختلف گروپس بنائے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی اور سید خورشید شاہ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف سے ان کی رہائشگاہ 96ایچ ماڈل ٹاؤن میں اہم ملاقات کی ۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق اور رانا تنویر حسین بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور وفاق او رپنجاب میں حکومت سازی کے مراحل کے حوالے سے جاری امور بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ حالیہ انتخابات میں تاریخ کی بد ترین دھاندلی ہوئی ہے اور اس کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور آوازبلند کی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی میں بھرپور کردار ادا کرنے اور خصوصاً آئندہ کے اجلاس کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی طے کی گئی جس پر دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس موقع پر طے پایا کہ اجلاس میں اپوزیشن اراکین کی حاضری کو یقینی بنایا جائے گا اور اس کیلئے مختلف گروپس بنانے پر گفتگو ہوئی جبکہ اس موقع پر مستقبل میں بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزیرا عظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کر مراحل بارے بھی گفتگو اور متحدہ اپوزیشن کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ پنجاب کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث آئے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا تنویر حسین نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے درمیان کسی قسم کے اختلافات یا ایک دوسرے سے تحفظات نہیں ،اپوزیشن متحد ہے اور تمام جماعتیں ساتھ مل کر چلیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر لائن آف ایکشن طے کی ہیں اورمعاملات کو آگے چلانے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مختلف گروپس تشکیل دئیے گئے ہیں تاکہ اراکین اسمبلی کی حاضری پوری رکھی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تحفظات پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے پنجاب میں حکومت سازی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے سے تمام کوششیں کر لی ہیں، سیشن ہونے پر تمام کوششیں کھل کر سامنے آ جائیں گی ۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…