ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی کرسی اور عمران خان کے درمیان بڑی رکاوٹ ! معافی نامہ بھی مسترد۔۔این اے 53میں کامیابی لٹک گئی ،جانتے ہیں کپتان کو ا ب کیا کرنا پڑے گا؟

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی) الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری سے متعلق کیس میں بابر اعوان کا تحریری جواب مسترد کردیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے بیان حلفی اور ان کا دستخط شدہ معافی نامہ طلب کرلیاہے۔تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے این اے 53 اسلام آباد کے پولنگ اسٹیشن پر گئے ۔

جہاں انہوں نے پولنگ بوتھ کے پیچھے جاکر مہر لگانے کی بجائے میڈیا کے سامنے ہی بیلٹ پیپر پر مہر لگائی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا۔چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے کے از خود نوٹس کی سماعت کی جس سلسلے میں ان کے وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور اپنے موکل کی طرف سے معافی مانگی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹ کی رازداری افشا کرنا معافی کا معاملہ نہیں، عمران خان نے ووٹ کی رازداری سے متعلق جواب نہیں دیا۔اس پر بابر اعوان نے کہاکہ میں عمران خان کی جانب سے ووٹ کی رازداری پرجواب جمع کرادیتا ہوں۔چیئرمین تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے جان بوجھ کرووٹ نہیں دکھایا، ان کی مرضی سے ووٹ کی تصاویر بھی نہیں لی گئیں، رش کے باعث مہر لگانے والی جگہ کا پردہ گرگیا تھا، عمران خان نے پوچھا تھا کہاں کھڑے ہوکر مہرلگاؤں۔جواب میں استدعا کی گئی ہے کہ ووٹ دکھانے میں میرے موکل کی مرضی شامل نہیں لہذا ووٹ کی رازداری افشا کرنے والا کیس ختم کرکے این اے 53 سے روکا گیا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے بابر اعوان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرانے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے جمع کرایا گیا تحریری جواب مسترد کردیا اور چیئرمین تحریک انصاف سے بیان حلفی سمیت ان کا دستخط شدہ معافی نامہ طلب کرلیا۔الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ عمران خان معافی نامہ اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائیں، کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…