بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

اسے کہتے ہیں تبدیلی۔۔۔عمران خان نے ایک ویٹر کو پارٹی ٹکٹ دیا اوروہ ہیوی ویٹ امیدواروں کو شکست دیکر ممبر قومی اسمبلی بن گیا،ظفر گل نے کن مشکلات سے گزر کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے؟پڑھئے عزم و ہمت کی داستان

datetime 9  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ہوٹل  میں ویٹر کا کام کرنے والاپی ٹی آئی  کےٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی بن گیا۔نجی ٹی وی  کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے حالیہ الیکشن میں ایک ایسے شخص کو بھی ٹکٹ دیا جو کہ ایک ہوٹل میں ویٹر تھا۔ تحریک انصاف کے نومنتخب ایم این اے گل ظفر  علاقے میں ’’ باغی‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔گل طفر اپنے علاقے میں تحریک انصاف کے متحرک کارکنان میں سے ایک تھے۔جب کہ وہ قبائلی علاقے فاٹا کے سابق وفاقی انتظامیہ کا بھی حصہ تھے۔

گل ظفر نے باجوڑ این اے 41 سے انتخابات میں حصہ لیا۔گل ظفر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواراخوانزادہ چٹان کو اس حلقے سے شکست دی جو کہ بہت مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے۔جب کہ آزاد امیدوار شہاب الدین کو بھی شکست دی۔ظفر گل نے 2013ء کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تا ہم اس میں ان کو شکست ہوئی تھی۔۔تحریک انصاف نے قبائلی علاقے کی 12میں سے 6 نشستیں جیتیں۔ظفر گل سے پوچھا گیا کہ آپ تو ایک ہوٹل میں ویٹر تھے اس کے باوجود بھی آپ نے ایک بہت مضبوط امیدوار کو کیسے شکست دے ؟توگل ظفر کا کہنا تھا کہ بے شک میرا پس منظر اتنا مضبوط نہیں تھا لیکن پارٹی کی مدد سے میں اتنے فنڈ اکھٹے کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ میں انتخابی حلقے میں مہم جاری رکھ سکوں۔ہم نے 20 ملین کے فنڈ اکھٹے کیے جس سے پارٹی کے دفاتر اور سیکریٹریٹ بنائے۔ظفر گل کا مزید کہنا تھا کہ اس ضلع سے پارٹی کے 6 میں سے 5امید وار کامیاب ہوئے تھے اور ان میں سے کوئی بھی اتنا امیر نہیں تھا۔ظفر گل نے مزید کہا کہ بے شک ہمارا تعلق امیر طبقے سے نہیں ہے لیکن لوگوں نے ہمیں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا۔واضح رہے کہ تحریک انصاف اس وقت مرکز کیساتھ ساتھ پنجاب ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…