ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عمران خان نے کے پی کے کےلئے ایک غیر معروف اور ڈھیلے ڈھالے محمود خان کو سی ایم بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ پنجاب میں وزیراعلیٰ کون ہوگا؟کیاعمران خان خوفزدہ ہوگئے ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

آج سے جوائنٹ اپوزیشن نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف تحریک شروع کر دی‘ آج سات جماعتوں کے نمائندوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کیا‘ نعرے بازی بھی کی اور الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار بھی کیا جبکہ ایم ایم اے اور اے این پی نے کے پی کے اور بلوچستان میں سڑکیں بلاک کر دیں جس کی وجہ سے بنوں‘ صوابی‘ قلات‘ مستونگ‘ خضدار‘ نوشکی‘ خاران‘ تفتان اور کوئٹہ میں ٹریفک بند رہی‘ آج احتجاج کا پہلا دن تھا‘

یہ احتجاج نہ جانے کب تک جاری رہے اور نہ جانے کب تک کون کون سی سڑک بند رہے گی۔ آپ اس قوم کا المیہ دیکھئے2013ء کے الیکشن کے بعد یہ احتجاج عمران خان کر رہے تھے اور میاں نواز شریف اسے غیر قانونی قرار دے رہے تھے اور آج ن لیگ‘ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی عمران خان کی جگہ کھڑی ہے اور عمران خان کی جماعت ن لیگ جیسے جواب دے رہی ہے، آپ المیہ دیکھئے صرف چہرے اور پوزیشنیں بدل رہی ہیں‘ موقف سیم ہیں‘ بس ایک چیز مستقل ہے اور وہ چیز عوام اور ان کے دکھ ہیں‘ 2018ء تک عوام عمران خان کے احتجاج کا وکٹم رہے اور یہ آج سے متحدہ اپوزیشن کے ہاتھوں خوار ہونا شروع ہوگئے ہیں‘ کل وہ ٹریفک بلاک کرتے تھے اور آج سے ان لوگوں نے سڑکوں سے دھاندلی کا بدلہ لینا شروع کر دیا‘ ان سڑکوں‘ اس عوام اور اس ٹریفک کا کیا قصور ہے‘ آپ نے جو بھی کرنا ہے آپ پارلیمنٹ میں جا کر کریں عوام کی زندگی کو کیوں اجیرن بنا رہے ہیں۔ عوام کہاں جائیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا جبکہ اپوزیشن نے آج مطالبہ کر دیا، نتائج نہیں مانتے، چیف الیکشن کمیشن مستعفی ہوں، کیا یہ مطالبات جائز ہیں‘ آج کا احتجاج غیر منظم‘ ڈائریکشن لیس اور لیڈر لیس تھا‘ ایجنڈا اور ہدف بھی کلیئر نہیں تھا‘ کیا اپوزیشن سپرٹ کے اس فقدان کے ساتھ اپنے مطالبات منوا لے گی اور عمران خان نے کے پی کے کیلئے ایک غیر معروف اور ڈھیلے ڈھالے محمود خان کو سی ایم بنانے کا فیصلہ کر لیا‘ پنجاب میں بھی ایک ایسا ہی سی ایم آئے گا‘ کیا عمران خان مضبوط اور مشہور سی ایمز سے خوفزدہ ہیں‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…