ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی دنیا میں پیچھے سے پیچھے کیوں جا رہے ہیں؟اس سوال کا جواب ملائیشیا کے لیڈر مہاتیر محمد نے کیادیاتھا؟عمران خان نے آج نئی مثال قائم کردی، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 7  اگست‬‮  2018 |

خواتین وحضرات ۔۔ آج سے ٹھیک 73 سال پہلے امریکا نے جاپان کے شہر ہیرو شیما پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا‘ ایک لاکھ 40 ہزار لوگ ہلاک اور تین لاکھ زخمی ہو گئے‘ پورا شہر صفحہ ہستی سے ۔۔مٹ گیا‘ 9 اگست کو دوسرا بم ناگاساکی پر گرایا گیا‘ وہاں بھی 74 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے‘ ٹوکیو امریکا کا تیسرا ٹارگٹ تھا ۔۔لیکن ٹوکیو پر حملے سے پہلے جاپان نے 15 اگست کو ہتھیار پھینک دیئے ‘ جنگ کے بعد جاپان ملبے کا ڈھیر بن گیا‘ ملک میں پانی تھا‘ بجلی تھی‘ گیس تھی‘ سڑک تھی‘ ٹرین تھی اور

نہ ہی خوراک اور ادویات تھیں ۔۔لیکن آپ جاپانی قوم کا کمال دیکھئے‘ ایٹمی حملے سے 20 سال بعد 1965ء میں جاپان نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑا تھا بلکہ یہ دنیا کے دس ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوتا تھا‘ ناگاساکی اور ہیرو شیما بھی دونوں دوبارہ آباد ہو چکے تھے وہاں ایک کے علاوہ کوئی جلی ہوئی یا گری ہوئی ۔۔عمارت نہیں تھی۔
آپ جاپان کو دیکھیں اور پھر ۔۔اس کے بعد اپنے آپ کو دیکھیں‘ ہم اکہتر سال بعد بھی پانی‘ بجلی‘ گیس‘ سڑک‘ اکانومی‘ خوراک‘ رہائش گاہوں اور الیکشنز جیسے (بنیادی) مسائل سے باہر نہیں آ سکے‘ جاپان دنیا میں بجلی پیدا کرنے والا تیسرا ملک بن چکا ہے لیکن ہم آج بھی لائیٹ آ گئی اور لائیٹ چلی گئی کے نعرے لگا رہے ہیں۔
پاکستانی دنیا میں پیچھے سے پیچھے کیوں جا رہے ہیں‘ ۔۔اس کا جواب ملائیشیا کے لیڈر مہاتیر محمد نے ایک انٹرویو میں دیا تھا ۔۔۔۔جی جہاں ہم میں ٹیم ورک کی کمی ہے‘ ہم مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں‘ ہم جس دن ایک قوم بن گئے ہم نے اپنے بجائے ملک کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا‘ ہم (اس) دن جاپان بن جائیں گے‘ ہم آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں۔

عمران خان وزیراعظم نامزد ہونے کے بعد آج نیب پشاور گئے‘ ایک گھنٹہ انتظار کیا‘ سوال نامہ لیا اور واپس آ گئے‘ یہ ایک بہت اچھی مثال ہے‘ حکمرانوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے‘ ہم آج کے پروگرام میں یہ بھی ڈسکس کریں گے اور الیکشن کمیشن 13 دن گزرنے کے باوجود نتائج فائنل نہیں کر سکا‘ آج بھی 26 حلقوں کے نوٹی فکیشن زیر التواء ہیں‘ ملک مزید کتنے دن حکومت کے بغیر چلے گا اور۔۔اس کا ذمہ دار کون ہو گا‘ گرینڈ اپوزیشن کل سے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج شروع کر رہی ہے‘

یہ احتجاج کب تک چلے گا اور آج عمران خان نے کے پی کے میں پارلیمانی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔کہ ہم حکومت نہیں جہاد کرنے آئے ہیں،اگر انسان چاہے توسب کچھ ہوسکتا ہے،پاکستان کومعاشی طورپر بہت مسائل درپیش ہے،بہت کام کرنا ہوگا۔ احتساب سب کا ہوگا کوئی وزیر اور مشیرنہیں بچے گا۔ کسی کو صوابدیدی فنڈ جاری نہیں کیے جائیں گے ۔قانون تبدیل کرکے صوابدیدی فنڈ کو مکمل ختم کریں گے ۔انہوں نے وزراء کو صبح نو بجے دفتر پہنچنے کی ہدایت کردی۔

عمران خان نیب میں پیش کے بعد پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پہنچ گئے،پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں چیئرمین تحریک انصاف کاکہنا تھا کہ ہم حکومت میں نہیں جہاد کرنے آئے ہیں جو حالات اب ہے وہ پہلے نہیں تھے، پاکستان کو معاشی طور پر بہت مسائل درپیش ہیں اس ضمن میں بہت کام کرنا ہے۔ مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔لیکن ہرقسم کے حالات کاڈٹ کرمقابلہ کریں گے۔ آ ئی ایم ایف کے ساتھ کیا کرنا ہوگا۔ بہت سوچ بچار کرنی ہوگی۔ انکا کہنا تھا کہ

تمام ممبران پوری تیاری کے ساتھ اسمبلی اجلاسوں میں شرکت یقینی بنائی جائے،، مخصوص نشستوں پر آنے والے لوگوں کو تیاری کیساتھ اسمبلی میں ٓانا چاہیے ۔ماضی میں اقتدارمیں آنے والے لوگوں نے اپنی ذات کے لیے بہت کچھ کیا ہم حکومت میں نہیں جہاد کرنے آئے ہیں،انسان اگر چاہیے تو سب کچھ ہوسکتاہے۔ میری جدوجہد واضح مثال ہے۔ غیر ضروری اخراجات ختم کرکے عوام کی ترقی پر وسائل استعمال کرینگے۔یہ تمام موضوعات ہمارے آج کے پروگرام کا ایشو ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…