ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’یہ چوری کا،حرام کا، ناپاک پیسہ ہے، ہضم کرنے نہیں دینگے‘‘ چیف جسٹس نے جعلی بینک اکائونٹ سکینڈل میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل کو وارننگ دیدی

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)’’یہ چوری کا،حرام کا، ناپاک پیسہ ہے، ہضم کرنے نہیں دینگے، اگر ثابت ہو گیا تو چھوڑیں گے نہیں‘‘سپریم کورٹ نے آصف زرداری اور فریال تالپور کو انکوائری کا حصہ بننے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج جعلی بینک اکائونٹس سے متعلق کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن عدالت میں پیش ہوئے ۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ جن کےنام کیس میں آئے ہیں وہ انکوائری میں شامل ہو کر کلیئر کرائیں، ڈی جی ایف آئی اے نے کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنوایا تو کارروائی ہوگی۔جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ 29لوگوں کےنام سے اکائونٹس کھلے ہیں، کچی آبادی کے مکین عمیر کے نام کے اکاؤنٹس میں کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں، اومنی گروپ ہویاجوبھی گروپ ان کا جواب چاہتے ہیں۔اس موقع پر آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ مقدمےمیں بہت سے لوگ بدنام کیے جا رہے ہیں۔چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ آپ کس کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں؟جس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل کی حیثیت سے عدالت میں پیش ہو رہا ہوں ، میرا وکالت نامہ عدالت میں جمع ہے، عدالت مقدمے کی پبلسٹی روکے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنی پبلسٹی تو ملے گی جتنی ہم دیں گے،کیا ایف آئی اے کو معاملے کی انکوائری کااختیار نہیں؟فاروق ایچ نائیک نے استدعا کی کہ پہلے دیکھا جائے کیا سرزد ہوا ہے، ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کا شور ڈالا ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہوں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ان اکاؤنٹس میں جو پیسہ ہے وہ بلیک منی کا ہے،

آسان الفاظ میں یہ پیسہ چوری کا ہے، حرام کا ناپاک پیسہ ہے، ہم اس پیسے کو ہضم کرنے نہیں دیں گے،اگر ثابت ہو گیا تو چھوڑیں گے نہیں۔جس پر اگر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ثابت نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا؟چیف جسٹس نے کہا کہ ثابت نہ ہو سکا تو آپ کے مؤکل کو دیانت داری کا سرٹیفکیٹ دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بشیر میمن اور ان کی ٹیم نے بلاوجہ کسی پر الزام لگایا تو پاکستان میں نہیں رہے گا،

ایف آئی اے کے غلط کام کو سپورٹ نہیں کریں گے۔دورانِ سماعت کمرۂ عدالت میں بینک کی سابق ملازمہ اپنے ڈیڑھ سال کے بچے کے ساتھ پیش ہوئیں۔بینک کی سابق ملازمہ نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے، میرے گھرپولیس آئی، رات 12بجے تک دھمکانے کی کوشش کی۔بینک ملازمہ نے عدالت سے مزید کہا کہ میرے گھر تھانہ گلستان جوہر کی پولیس آئی تھی،

جس نے کہا کہ گرفتار کرنے کا حکم ہے، مگر نرمی برت رہے ہیں۔عدالت نے آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی کو آدھے گھنٹے میں طلب کر لیا، چیف جسٹس پاکستان نے ایڈیشنل آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ پولیس کا اقدام درست ہونے کا جواز پیش کر رہے ہیں، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو بلا کر آپ کے خلاف انکوائری کراتے ہیں،کل پورا تھانہ عدالت میں موجود ہو۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایڈیشنل آئی جی سندھ سے مکالمے میں استفسار کیا کہ آپ ریاست کے ملازم ہیں یا حکومت کے؟عدالت نے اومنی گروپ کی اسپانسر مجید فیملی کو13اگست آئندہ پیر کو طلب کر تے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…