ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

آر ٹی ایس سسٹم کی ناکامی کا سب سے بڑا نقصان تحریک انصاف کو ہوا، واضح اکثریت حاصل کرتے عمران خان کے آخر وقت میں کس طرح ’’پر‘‘ کاٹے گئے؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 5  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی+ مانیٹرنگ)تحریک انصاف نے انتخابات 2018ء کے نتائج میں تاخیر اور آر ٹی ایس نظام ناکام ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق آرٹی ایس کی ناکامی کی وجوہات جاننے کیلئے پی ٹی آئی نے توجہ دلاؤ نوٹس سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرادیا ہے۔ذرائع کے مطابق توجہ دلاؤ نوٹس پی ٹی آئی کی سینیٹر اعظم سواتی نے جمع کرایا۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ آرٹی ایس سسٹم کی ناکامی کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

دوسری جانب آرٹی ایس سسٹم کے فیل ہونے پر مختلف جماعتوں اور تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ اس سسٹم کو روک کر دراصل عمران خان کو جتوایا گیا لیکن اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ہوا۔ پیپلز پارٹی کو جو گزشتہ انتخابات میں پنجاب سے صرف ایک سیٹ حاصل کر سکی تھی اس بار اس نے 8 نشستیں حاصل کی ہیں، اس طرح پیپلز پارٹی نے سندھ میں بھی پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیا قوم نے پیپلز پارٹی کی بری گورننس آصف زرداری، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم ملک، ایان ملک کی خدمات کے عوض پہلے سے زیادہ ووٹ دیے ہیں؟ تجزیہ کاروں کے مطابق ن لیگ میاں نواز شریف کی سزا اور بے مثال استقبال نہ کر سکنے کے باعث ڈی مورالائز ہو چکی تھی اور گزشتہ انتخابات کی نسبت انتخابی تیاری کے بغیر ہی میدان میں اتری۔ انتخابات کے موقع پر ان کے امیدواروں اور کارکنوں میں پہلے جیسا جذبہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان کے برعکس تحریک انصاف نے بھرپور انتخابی مہم چلائی اور ان کی پوزیشن بھی بہت مستحکم تھی اور امید یہ کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف اکیلے ہی حکومت سازی کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ آر ٹی ایس سسٹم کے ذریعے عمران خان کے پر کاٹے گئے انہیں واضح اکثریت حاصل کرنے سے روکا گیا تاکہ وہ آزادانہ فیصلے نہ کر سکیں۔ آرٹی ایس کے ذریعے اس منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالی گئی اور اس نظام سے سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اٹھایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…