ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’وزیر اعظم ہاؤس کی جگہ کوئی یونیورسٹی یا عوامی مقام کیوں نہیں بن سکتا؟‘‘ جو لوگ کہہ رہے کہ ہم نے تنخواہ نہیں لینی ،ان سے عرض ہے تنخواہیں لیں لیکن ڈیلیور کریں ، معروف صحافی کی عمران خان کے فیصلے پر سخت تنقید

datetime 3  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ وزیراعظم ہائوس نہیں رہیں گے بلکہ اسپیکر ہائوس رہیںگے ۔ معروف صحافی رئوف کلاسرا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں عمران خان نے پاپولر فیصلے کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہم نے جغرافیائی اعتباز سے وزیراعظم ہائوس کو دیکھا ہے جہاں پر نہ تو کوئی یونیورسٹی بن سکتی ہے اور نہ ہی عوام کیلئے کوئی بہتر مقام بنایا جا سکتا ہے ۔

عمران کان کے فیصلے پر میرا موقف تھوڑا سے مختلف ہے اور ہو سکتا کہ لوگ میرے موقف کو پسند نہ کریں لیکن میں عمران خان کے فیصلے کی حمایت نہیں کر تا کیونکہ عمران خان ایسے پاپولر فیصلے کرنے سے بہتر ہے کہ وہ وزیراعظم ہائوس میں ہی رہیں اور ہمیں کچھ ڈیلیور کریں ۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ وزیراعظم ہائوس رہیں یا کہیں اور ۔ لیکن ہاں آپ سکرٹریٹ چلائیں ، اپنے اخراجات اور کم سے کم لوگوں کو رکھیں ۔ معروف صحافی نے ایک اور جگہ یہ کہا ہے کہ کچھ اراکین نے اعلان کر نا شروع کر دیئے ہیں کہ ہم تنخواہیں لیں گے ۔ مجھے یاد ہے کہ عبدالرزاق دائود صاحب کہتے تھے کہ میں تنخواہ نہیں لوں گا ، انہوں نے تنخواہ نہیں لی لیکن پوری دنیا پھر لی تھی ۔ میں ایسے لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے 70,یا 80ہزار لینے سے پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔آپ اپنی تنخواہ ضرور لیں لیکن عوام کو ڈلیور بھی کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…