منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

بازی پلٹ گئی،تحریک انصاف کو بڑا سرپرائز،شہباز شریف کو وزیراعظم ،خورشید شاہ سپیکر قومی اسمبلی ،چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ،دھماکہ خیز فیصلے کرلئے گئے

datetime 2  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) گرینڈ اپوزیشن الائنس نے شہباز شریف کو وزیراعظم اور خورشید شاہ کو سپیکر قومی اسمبلی کے امیدوار کے طور پر سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ ایم ایم اے ڈپٹی سپیکر کیلئے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اپنے امیدوار کا نام سامنے لے آئے گی ، تحریک انصاف کا وزیراعظم بننے کی صورت میں اپوزیشن لیڈر بھی شہباز شریف کو بنانے پر اتفاق رائے طے پا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو مسلم لیگ (ن) ، پاکستان پیپلزپارٹی ، متحدہ مجلس عمل ، پختونخوا میپ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل گرینڈ اپوزیشن الائنس کی کل جماعتی کانفرنس میں تحریک انصاف کے مقابلے میں مشترکہ طور پر وزیراعظم اورسپیکر وڈپٹی سپیکر کے امیدوار لانے کا فیصلہ کیا گیا تاہم پریس کانفرنس کے دوران ان افراد کے نام سامنے نہیں لائے گئے جبکہ ذرائع کے مطابق اندرونی طور پرگرینڈ اپوزیشن الائنس نے وزارت عظمیٰ کیلئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور سپیکر قومی اسمبلی کیلئے پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو سامنے لانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ ڈپٹی سپیکر متحدہ مجلس عمل کا ہوگا جس کیلئے مجلس عمل نے ایک دن کی مہلت طلب کی ہے جس کے بعد وہ اپنے امیدوار کا نام سامنے لے آئیں گے ۔ ذرائع کے مطابق کاغذات نامزدگی بھی اس وقت ہی جمع کرائے جائیں گے ۔ذرائع کے مطابق چونکہ خورشید شاہ کے بطور اپوزیشن لیڈر تمام جماعتوں کے ایم این ایز کیساتھ تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اس لئے ان کو سپیکر کیلئے نامزد کیا گیا ہے تاہم ان کا مزاج بھی اس طرح کا ہے کہ وہ ایوان کے امور بڑے متحمل انداز میں چلا سکتے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اے پی سی میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگر گرینڈ الائنس کا امیدوار وزارت عظمیٰ کے انتخاب میں ناکام ہوجاتا ہے تو اپوزیشن لیڈر کیلئے بھی شہباز شریف متفقہ شخصیت ہوں گے ۔دوسری جانب چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کیلئے بھی اپوزیشن غور کر رہی ہے اور اگر اس پر فیصلہ ہو جاتاہے تو اس کیلئے بھی (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی مل کر فیصلہ کریں گے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…