ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اپنی مرضی کا گھر پسند،مرمت اور خوبصورتی پر کروڑوں روپے خرچ، کبوتروں کا خصوصی پنجرہ بنوایا،دوست کی بیٹی کو پکی نوکری دلوائی، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف دائر ریفرنس میں سنگین الزامات

datetime 22  جولائی  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سی ڈی اے کے ایک ملازم نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس فائل کر رکھا ہے جس میں مصدقہ دستاویزات کے ساتھ الزام لگایا گیا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ کیلئے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف سے خصوصی حکم نامہ حاصل کیا اور پھر وہ رہائش پسند نہ آنے پر ایک دوسرا گھر پسند کیا اور یہ گھر پہلے سابق صدر پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز کے زیر استعمال تھا۔

گھر کی الاٹمنٹ حاصل کرنے کے بعد جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خلاف قانون اس کی تزئین و آرائش کیلئے سی ڈی اے کے عہدیداروں کو مجبور کیا کیونکہ یہ گھر پاک پی ڈبلیو ڈی کے پول پر تھا اور پاک پی ڈبلیو ڈی ہی اس گھر کی تزئین و آرائش کی ذمہ دار تھی لیکن جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پی ڈبلیو ڈی کے افسران سے این او سی لے کر سی ڈی اے کے افسران کو دیا اور پھر اس سرکاری رہائش کی مرمت اور خوبصورتی پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے لگا دیئے گئے جس کے دستاویزی ثبوت ریفرنس کے ساتھ منسلک کئے گئے ہیں علاوہ ازیں اس ریفرنس میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے دیرینہ یار کو نوازنے کیلئے سی ڈی اے کو مجبور کیا کہ وہ اس کا کم مالیت کا پلاٹ قیمتی پلاٹ میں تبدیل کرے اور سی ڈی اے کے افسران یہ حکم مان کر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے دوست کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا ۔ مزید برآں ریفرنس کے مدعی علی انوار گوپانگ نے دستاویزات میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سی ڈی اے افسران کو مجبور کرکے اپنے ایک دوست کی بیٹی کو بھرتی کروایا اور بیٹے کی نوکری کو مستقل کروایا۔ علاوہ ازیں فاضل جج کے حکم پر سی ڈی اے نے سرکاری رہائش گاہ میں کبوتروں کا خصوصی پنجرہ بھی بنا کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…