جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

حکمرانوں نے قومی اداروں کو لوٹ مار کا ذریعہ بنالیا، نوازشریف نے جس شخص کو ایم ڈی پی ایس او تعینات کیا اس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟ سپریم کورٹ میں افسوسناک انکشافات

datetime 14  جولائی  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل اور ایم ڈی پی ایس او عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے پیٹرولیم مصنوعات کی کوالٹی اور درآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جب کہ سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی اور مراعات کے معاملے میں نیب کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب یہ بھی بتائے کہ ایل این جی پر ہونے والی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیاکہ آپ کو کب اور کس کی سفارش پر تعینات کیا گیا؟ اس پر ایم ڈی نے بتایا کہ مجھے 2015 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے تعینات کیا، شاہد خاقان عباسی نے کمیٹی کی سفارش پر مجھے تعینات کیا، اشتہار کے ذریعے حکومت نے 6 نام فائنل کیے جن میں سے مجھے چنا گیا۔ایم ڈی پی ایس او نے بتایا کہ جب ادارے کا چارج سنبھالا تو منافع 6 ارب تھا جسے بڑھا کر 18 ارب کردیا ہے۔چیف جسٹس نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے مینجنگ ڈائریکٹر سے مکالمہ کیا کہ آپ کا تو پٹرولیم کا تجربہ ہی نہیں ہے، حکومت کا یہ طریقہ کار ہے نجی کمپنیاں بناؤ، اپنے بندے لگاؤ اور ان کو فائدے پہنچاؤ، کیوں نا آپ کو معطل کر دیا جائے؟جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کسی قومی ایجنسی ذریعے آپ کی تعیناتی سے متعلق تحقیقات کرالیتے ہیں، پی ایس او کا آڈٹ بھی آڈیٹر جنرل سے کرا لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے،2 سے ڈھائی لاکھ تنخواہ والے گریڈ 22 کے افسر کو 4 لاکھ دے کر ایم ڈی بنایا جاسکتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…