ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے‘‘ سراج رئیسانی کی شہید ہونے سے پہلے آخری گفتگو منظر عام پر آگئی

datetime 14  جولائی  2018 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء حلقہ پی بی 35 سے نامزد امیدوارنوابزادہ میر سراج رئیسانی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے ملک دشمن قوتوں کو کسی بھی صورت ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بلوچستان کو پرامن بنانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جلسہ سے قبل خبر رساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کی عوام نے دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور جو ہمارے دشمن ہیں ان کے عزائم کو ہم کسی بھی صورت یہاں کامیاب نہیں ہونے دیں بلوچستان عوامی پارٹی اقتدار میں آکر بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی دے گی اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے میسر کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ملک کی خاطر سب کچھ قربان کریں گے کیونکہ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے اور اس کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہو کر بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے ملک دشمن قوتوں کو کسی بھی صورت ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے بلوچستان کو پرامن بنانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ادھر خاندانی ذرائع کے مطابق نوابزادہ میرسراج رئیسانی شہید کی نماز جنازہ آج سہ پہر تین بجے ساراوان ہاؤس میں ادا کی جائے گی اور تدفین مستونگ شہداء قبرستان میں کی جائے گی ۔واضح رہے گزشتہ روز انتخابی مہم کے دوران خودکش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 130افراد شہید اور 120 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

لیویز ذرائع کے مطابق مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے دوران خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 130 افراد شہید اور 120 سے زائد زخمی ہوگئے۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بھائی سراج رئیسانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق سراج رئیسانی کو زخمی حالت میں علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کرلیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ کے مطابق دھماکے کے بیشتر زخمیوں کو کوئٹہ کے اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے جب کہ ترجمان سول اسپتال کوئٹہ کا کہنا ہے کہ مستونگ دھماکے کے 53 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے میں شہید 38 افراد کی میتیں سول اسپتال جب کہ 6 افراد کی میتیں بی ایم سی میں موجود ہیں۔

مستونگ واقعے میں شہادتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث سول اسپتال کوئٹہ کے مردہ خانے میں میتیں رکھنے کی جگہ کم پڑگئی ہے اور مردہ خانے کے علاوہ شعبہ حادثات میں بھی میتیں رکھی ہوئی ہیں۔انتخابی سرگرمیوں پر 7 دن میں 4 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں جس میں 2 امیدواروں ہارون بلور اور سراج رئیسانی سمیت 150سے زائد افراد جاں بحق اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔7 جولائی کو بنوں میں پی کے 89 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ملک شیریں پر انتخابی مہم کے دوران ان کے قافلے کے قریب حملہ ہوا تھا جس میں 7 افراد زخمی ہوئے تھے۔خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں بھی ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی کی انتخابی مہم کو بھی نشانہ بنایا گیا اور جلسے کے بعد ان کے قافلے کے قریب دھماکے میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ گزشتہ دنوں پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور بھی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش دھماکے میں شہید ہوگئے تھے جب کہ اس حملے میں 22 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…