سزا کے بعد ہمیں پیغامات بھجوائے گئے کہ واپس نہ آئیں، کس طرح مدد کی جائے گی؟ مریم نواز نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا

  جمعرات‬‮ 12 جولائی‬‮ 2018  |  21:23

لندن (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ سزا کے بعد ہمیں پیغامات بھجوائے گئے کہ واپس نہ آئیں، اپیلوں میں آپ کی مدد کی جائیگی، میاں صاحب اور میں گرفتار ہونے کیلئے پاکستان جارہے ہیں، جو لوگ کرسی کے نشے میں ہیں انہیں جواب دینا ہوگا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے احتساب عدالت کی جانب سے ہمیں سزا سنائی گئی ہے اس کے بعد ہمیں یہاں پر روکنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ، بار بار ہمیں پیغامات دیئے جاتے رہے ہیں کہ آپ

واپس پاکستان نہ جائیں ، اپیلوں میں آپ کی مدد کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے پاکستان نہ جانے سے کی بات ماننے سے انکار کردیا تو پھر کنفیوژ خبریں پھیلائی جارہی ہے۔ انشاء اللہ ہم پاکستان پہنچ جائینگے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ووٹر کو پیغام دینے کی ضرورت نہیں ہے وہ سمجھدار ہیں جس طرح میاں صاحب ہیں اسی طرح ان کے مزاج کے ووٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ میاں صاحب تشدد پر یقین رکھتے ہیں نہ ہی ہمارے ووٹر تشدد پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی 30 سالہ تاریخ میں آج تک کبھی کسی ووٹر نے تشدد نہیں کیا نہ وہ ان چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بڑے بڑے جلسے اوراجتماعات کئے گئے جو مکمل طور پر پرامن تھے۔ بڑی بڑی تحریکوں اور جلسوں میں کسی کو آنچ نہیں آنے دی۔ انہوں نے کہا کہ املاک اور چیزوں کو وہ لوگ توڑتے ہیں جنہوں نے بنائی نہیں ہوتی ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے تمام بڑے بڑے پراجیکٹس بنائے ہیں ، عوام کے فائدے کیلئے بہت ساری چیزیں مسلم لیگ (ن) نے تعمیر کی ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کے ورکروں کو احساس ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے، یہ چیزیں ہماری ہیں ہمیں ان چیزوں کو توڑنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ جس میں ورکرز کی جانب سے تشدد کیا گیا ہو کوئی گھیراؤ جلاؤ کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ جلاؤ، گھیراؤ ان لوگوں کا کام ہے جو کھلے عام دعوتیں بھی دیتے ہیں اور ایسے کام بھی کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ورکرز جانتے ہیں کہ ان کا لیڈر پرامن ہے اور وہ بھی پرامن ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے ورکرز اگر اپنے لیڈر کے استقبال کیلئے آنا چاہتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے وہ پرامن طریقے سے آنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں روکنے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی جائینگی ، راتوں رات انہیں گھروں سے اٹھا کر ، ان کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں اٹھا کر لے جایا جائے گا تو پھر ردعمل تو آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں پہلی بار لوگوں نے خوف اور ڈرنے سے انکار کردیا ہے۔ لوگ پولیس سٹیشنز کے باہر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے نعرے بازی کی ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے موڈ سے لگ رہا ہے کہ وہ اس بار سٹینڈ لے گا اور زیادتی و ظلم کیخلاف آواز اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم خود گرفتار ہونے کیلئے آرہے ہیں اس لئے ہمیں ڈرانے اور دھمکانے کی ضرورت نہیں ہے۔ دل بڑا کریں، حوصلہ رکھیں اور نواز شریف کو اپنے عوام سے بات کرنے دیں، اتنا خوف نہ کھائیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی بیمار والدہ اور میاں صاحب اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر گرفتار ہونے کیلئے پاکستان جارہے ہیں ، ہم باہر نکلیں گے ، عوام سے خطاب کریں گے ، انشاء اللہ اپنے لوگوں سے ملیں گے اور بات کریں گے اور اس کے بعد خود گرفتاری دینگے کسی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مجھے سینکڑوں پیغامات موصول ہو رہے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی ان کے بیانات دیکھے ہیں جس پر ان کی شکر گزار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ وہ ملک کیلئے آگے بڑھ کر آواز اٹھائیں ، اس ملک کو جیل بننے سے بچائیں، اس ملک میں جمہوریت کے علم کو بلند کریں ، اس ملک میں ظلم اور زیادتی کیخلاف آواز اٹھائیں، یہ آپ کا ملک ہے آپ نے ادھر رہنا ہے۔ آپ کی نسلوں نے ادھر رہنا ہے ، فاطمہ جناح کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جمہوریت کیلئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں فیصلہ کن موڑ آرہا ہے اس میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اب اس قوم کی ہر بیٹی کو مریم نواز بننا چاہئے۔کارکنوں کی گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر مقدمات بنانے اور اس کے بعد سزائیں سنانے کے باوجود آپ یہ کچھ کررہے ہیں تو تسلیم کریں کہ آپ ہار چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کرسی کے نشے میں ہیں انہیں اللہ اور عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں