منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

اسلام آباد میں روس چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی کانفرنس کا انکشاف، یہ ممالک پاکستان کیساتھ ملکر کیا کام کرنا چاہتے ہیں،اجلاس کا مقصد کیا تھا؟ امر یکی ٹی وی کا تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا،پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

datetime 12  جولائی  2018 |

اسلام آباد \ماسکو\بیجنگ\تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے خفیہ اداروں کے سربراہوں کے ایک ایسی کانفرنس کی میزبانی کی جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر موجود نہیں،جس میں روس،چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی ۔امر یکی ٹی وی وا ئس آ ف امر یکہ نے ذرا ئع کا حوالہ دیتے ہو ئے اپنی رپورٹ میں کانفرنس کے انعقاد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شرکا ء نے مشرقی افغانستان میں سرگرم جنگجوؤں کی سرگرمیاں روکنے سے متعلق مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

افغانستان میں موجود داعش کے عسکریت پسندوں کی وفاداریاں مشرق وسطی ٰ کے دہشتگرد گروپ سے ہیں اور افغانستان کیساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والے یہ چاروں ملک اپنے پڑوس میں داعش کے اجتماع کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔اجلاس کا ایک اور غیر معمولی پہلو یہ کہ جو ملک داعش کی دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، وہ اس کانفرنس میں شامل نہیں تھا،یعنی افغانستان۔اس ضمن میں ترجمان ماسکو فارن انٹیلی جنس سروس سرگئی آوانو نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں یہ اجلاس افغانستان میں داعش کی گروہ بندی سے متعلق تھا،کانفرنس کے شرکا نے داعش کے دہشتگردوں کو شام اور عراق سے افغانستان میں جانے سے روکنے کے لیے تعاون پر مبنی اقدام کی اہمیت پر اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی ہمسایہ ملکوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے،روس کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سرگئی نارشکن نے اسلام آباد میں ہونیوالے اجلاس میں چین اور ایران کے اپنے ہم منصبوں کیساتھ شرکت کی۔ان سب نے افغانستان میں جنگ ختم کرنے کیلئے علاقائی طاقتوں کی جانب سے زیادہ موثر شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔اس سے قبل روس یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ شمالی افغانستان میں،جس کی سرحدیں وسطی ایشیائی ملکوں سے ملتی ہیں،داعش کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔

امریکہ ان الزامات کو افواہیں قرار دے کر مسترد کرتا ہے،گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کیلئے روس کے سفارت کار واسیلی نیبنزیا نے افغانستان پر سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا تھا کہ داعش افغانستان میں اپنے تربیتی مراکز قائم کر رہا ہے،وہاں اس گروپ کے 10 ہزار کے قریب جنگجو موجود ہیں اور وہ ملک کے 34 میں سے 9 صوبوں میں فعال ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے شمالی حصے میں اپنی موجودگی مستحکم کر رہے ہیں جس سے وسطی ایشیائی ریاستوں کیلئے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم افغان عہدے دار اس دعوے کو مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ایران، جس کی طویل سرحد فغانستان کیساتھ ملتی ہے، اسی طرح کا تحفظات کا اظہار کر چکا ہے،جبکہ اس ضمن میں پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ افغانستان کے ان علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانے قائم کر رہا ہے جہاں حکومت کی عمل داری نہیں ہے اور وہ وہاں سے سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی کر نے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکہ کے ایک فوجی تجزیے میں بتایا گیا تھا کہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ملک کا 60 فی صد سے بھی کم علاقہ ہے۔تاہم اسلام آباد، ماسکو، بیجنگ اور تہران کے طالبان کے ساتھ رابطے ہیں۔اس کا مقصدا فغان جنگ کا بات چیت کے ذریعے حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنا ہے۔لیکن کابل اور واشنگٹن ان سفارتی رابطوں کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…