جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کرپٹ عناصرکو کرپشن کا حساب دینا ہو گا،نیب افسران کو میری طرف سے مکمل تحفظ حاصل ،کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے،چیئرمین نیب کا دبنگ اعلان

datetime 11  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو ملک سے کرپشن کے خاتمے کا فر یضہ قومی ذمہ داری اور اعزاز سمجھ کر سرانجام دے رہا ہے،کرپٹ عناصرکو اپنی کرپشن کا حساب دینا ہو گا، بلوچستان میں کیسز کے ذاتی مطالعے سے متعدد بند کیسزمیں قانونی شواہد موجود پائے اس لئے انھیں میرٹ اور قانون کے مطابق دوبارہ کھولا جائے گا، منصف کی کرسی کے تقدس کو سمجھتا ہوں اس لئے نہ میرٹ پر سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کرونگا۔

نیب افسران کو میری طرف سے مکمل تحفظ حاصل ہے اس لئے کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے، سیاستدانوں سمیت ہر شخص کی عزت نفس کا احساس ہے ،کاروائی قانون اور آئین کے مطابق ہی کی جاتی ہے۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے دورہ بلوچستان کے موقع پر بریفنگ اور افسران سے خطاب کے موقع پر کیا۔ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان مرزا محمد عرفان بیگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب افسران مقدمات کو قانون کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں، کرپٹ عناصر کے خلاف کیسز میں غیرضروری التواء برداشت نہیں کیا جائیگا ، بے لاگ اور بلا امتیاز کا روائیوں کا تسلسل آئندہ بھی اْسی قومی فریضے کی انجام دہی کے جذبے کے ساتھ جاری رہے گاً ۔تمام مقدمات کو میرٹ ، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے منطقی انجام تک لے جایا جائے۔انھوں نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مٹی کا ہم پر قرض ہے ہم نے اس قرض کو بطریق احسن لوٹانا ہے۔ اگر ہم نے ایمانداری ، دیانت سے کرپٹ عناصر کے خلاف مکمل جانفشانی کے ساتھ کام کیا تو میں سمجھتا ہوں ہم نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے۔

انھوں نے کہاکہ دیانت ، ایمانداری کے زریں اصولوں کے مطابق کام کرنے سے اللہ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے بد عنوانی کے اندھیرے دور کرنے کے لئے اپنے حصے کا چراغ سب کو روشن کرنا ہو گا۔ جسٹس(ر) جاوید اقبال نے ملک میں کرپشن کے عوام الناس کی زندگی پر اثرات اور مجموعی طور پر مضمرات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان 90 ارب ڈالر کامقروض ہو چکا ہے۔ہماری5 نسلوں کو اس قرض کے وبال کو بھتگنا ہے۔

ہر پاکستانی تقریبا 1 لاکھ 70ہزار کا مقروض ہے۔ اس لئے کرپشن کی لعنت کو ہم سب نے ملکر ختم کرنا ہے اس کے لئے نیب کے تمام افسران اور عملے کا بھر پور تعاون ناگزیر ہے۔۔چیئرمین نیب نے کہا کہ بد عنوانی کا مرتکب شخص ملک و قوم کا مجرم ہے اسی لئے ہر کرپٹ شخص کو اس کے برے فعل و عمل کا جوابدہ بنایا جا رہا ہے ، نیب کا کام کرپشن کے خلاف تحقیقات کو میرٹ ، شواہد، شفافیت اور قانون کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنا فرض منصبی سر انجام دینا ہے اس پکڑ میں کوئی عام شخص آئے یا خاص مگرکاروائی قانون کے مطابق ہی ہو گی۔انھوں نے نیب بلوچستان کی کار کردگی کو سراہتے ہوے کہاکہ نیب بلوچستان کی کار کردگی اچھی ہے لیکن اس کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین نیب نے لیگل ونگ کو ہدایت کی کہ وہ عدالت میں دائر کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کوئی کسر اْٹھا نہ رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…