جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

قائمقام صدر محمد صادق سنجرانی کی جانب سے مہمند ، دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے ذاتی طور پر بڑی رقم کا عطیہ ،زبردست اعلان کردیا

datetime 9  جولائی  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قائمقام صدر محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بھاشا دیامیر ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کیلئے فنڈز کا قیام احسن اقدام ہے جس سے نہ صرف ملک کی معیثت کے فروغ میں مدد ملے گی بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو درپیش پانی کی قلت کی سے چھٹکارا ملے گا۔قائمقام صدر نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اٹھایا گیا اقدام نہ صرف بروقت ہے بلکہ ملکی سا لمیت کیلئے انتہائی ناگزیر ہے۔

محمد صادق سنجرانی نے مزید کہا کہ ملک میں پانی کی شدید قلت کے پیش نظر آبی وسائل کی ترقی کیلئے جامع پالیسی سازی کا عمل انتہائی لازمی ہوگیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈیموں کی تعمیر کیلئے جو آغاز کیا ہے وہ اس امر کو مزید پختہ کرتا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ادارے مسئلے کی حساسیت سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس پر قابو پانے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا جس کی پہلی اینٹ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھاشا دیامیر ڈیم اور مہمند ڈیم کیلئے فنڈز کے قیام کی صورت میں رکھ دی ہے۔ قائمقام صدر نے دونوں ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں ذاتی طور پر1.5 ملین روپے دینے کا اعلان کرتے ہوئے تمام پاکستانیوں اور خاص طور پر سمندر پارپاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس قومی فریضے میں بھی بھرپور طور پر حصہ لیتے ہوئے دل کھول کر عطیات دیں۔قائمقام صدر نے کہا کہ موسمیات تبدیلیوں اور پانی کے وسائل کی ترقی کیلئے بروقت اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث ملک پانی کی قلت کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ضروری ہے کہ ملک کے اندر واٹر ایمرجنسی نافذ کر کے ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف حکومتی سطح پر بہتر حکمت عملی سامنے لائی جائے بلکہ عوامی سطح پر بھی لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث ہماری زراعت اور معیشت کو شدید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے جبکہ گھریلو صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کو جب بھی مسائل کا سامنا ہوا ہے تو سب نے مل کر ان کا مقابلہ کیا ہے اور پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے بھی اس قومی جذبے اور وحدت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا تاکہ پانی کے وسائل کو ترقی دے کر ملککو اس بحران کی صورتحال سے نکالا جا سکے۔قائمقام صدر نے تمام مکتبہ فکر پر زور دیا کہ ڈیموں کی تعمیر اور پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور اپنے اختلاف کا بالائے طاق رکھ کر اس اہم قومی مسئلے پر مثبت سوچ کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…