جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

خدشات میں بھی اضافہ ہوگیا،بین الاقوامی سطح پر عام انتخابات کوسبوتاژ کرنے کی کوشش،کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر حملہ ہوگیا یا کسی ک یجان چلی گئی تو کیا ہوگا؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 20  جون‬‮  2018 |

الیکشن جوں جوں قریب آ رہے ہیں خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ ان خدشات میں سب سے بڑا خدشہ دہشت گردی ہے‘ آج سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں وزارت داخلہ کے سپیشل سیکرٹری رضوان ملک نے انکشاف کیا‘ الیکشن میں امیدواروں پر دہشت گردی کے حملے ہو سکتے ہیں‘ بیرون ملک سے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جائے گی‘ ہمیں الیکشن میں حملوں کے حوالے سے تمام انفارمیشن صوبے دے رہ ہیں‘

وزارت داخلہ روزانہ کی بنیاد پر الیکشن کی سیکورٹی کا جائزہ لے رہی ہے اور رینجرز اور ایف سی الیکشن میں سیکورٹی میں سب سے اہم کردار ادا کرے گی‘ یہ اس قسم کے خدشات کا دوسرا اظہار ہے‘ اس سے قبل 28مئی کوسیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کہا تھا ‘ بین الاقوامی سطح پر عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے چنانچہ یہ ایشو سیریس ہے‘ خدانخواستہ کسی حلقے‘ کسی امیدوار یا پھر کسی سیاسی جماعت کے سربراہ پر حملہ ہوگیا یا کسی کی جان چلی گئی تو الیکشن اور الیکشن کے نتائج دونوں متنازعہ ہو جائیں گے‘ ملک حقیقتاً بحران میں چلا جائے گا‘ ان وارننگز کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتیں اعتراض کر رہی ہیں‘ چاروں صوبوں کے آئی جیز نے 21 اپریل کو سپریم کورٹ کے حکم پر 13 ہزار سیکورٹی اہلکار واپس لے لئے اور اب ملک کے زیادہ تر سیاستدان کی سیکورٹی کیلئے کسی قسم کی کوئی فورس موجود نہیں‘ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پروٹوکول میں بھی دو گاڑیاں‘ ایک جیمر اور 34 پولیس اہلکار شامل ہیں جبکہ ان کی رہائش گاہ سے سیکورٹی کیمرے اور لائیٹس بھی اتار لی گئی ہیں اور یہ صورتحال خطرناک ہے‘ کیا اس خطرناک صورتحال میں پرامن الیکشن ممکن ہیں اور سیاستدان ریاست سے مزید کیا چاہتے ہیں‘ جبکہ کے پی کے اور پنجاب کے بعد آج چیف جسٹس نے سندھ میں بھی سابق حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیا‘

چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے پوچھا‘ تھر میں غریبوں کے بچے مر گئے‘ ان کا کیا کریں‘ مراد علی شاہ کی جس طرح کی کارکردگی تھی کیا وہ اگلا الیکشن بھی لڑ رہے ہیں‘ چیف جسٹس نے کہا‘ سندھ میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔کیا پیپلز پارٹی بیڈ گورننس کی ان مثالوں کے باوجود سندھ سے الیکشن جیت جائے گی اور الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے اثاثے اوپن ہو گئے‘ ان اثاثوں نے ملک میں نئی بحث چھیڑ دی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…