جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

شرافت سے چلو گے تو بہتر ہے، تم اتنے طاقتور نہیں کہ عدالت کو ڈکٹیٹ کراؤ،چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کرتے ہوئے بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ کی عقل ٹھکانے لگا دی

datetime 20  جون‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)جعلی ڈگری اسکینڈل کیس میں سفارشیں کرانے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایگزیکٹ اور نجی ٹی وی کے مالک شعیب شیخ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جعلی ڈگری اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران چیف جسٹس نے سفارشیں کرانے پر بول ٹی وی کے مالک شعیب شیخ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم کس کس سے سفارشیں کرا رہے ہو۔

میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں، خبردار اگر سفارش کرائی، پتہ ہے تمہارے لیے کون کون سفارشیں کر رہا ہے، شرافت سے چلو گے تو بہتر ہے، تم اتنے طاقتور نہیں کہ عدالت کو ڈکٹیٹ کراؤجب کہ سن لو دم درود کام نہیں آئے گا۔چیف جسٹس نے نجی ٹی وی چینل کے وکیل شہاب سرکی سے استفسار کیا کہ کیا 10 کروڑ جمع کرائے جس پر شہاب سرکی نے کہا کہ ہم نے گھر کے دستاویزات جمع کرا دیے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں گھر کے دستاویزات نہیں، بنک اکاونٹ میں رقم چاہئیں، 10 کروڑ جمع کرا ؤپھر کیس سنیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ تو کہتے تھے اربوں روپے ہیں، کہاں گیا پیسہ۔ وکیل نجی ٹی وی شہاب سرکی نے کہا کہ ہم رقم دینے کے لیے تیار ہیں، تین ہفتوں کی مہلت دی جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ 2 ہفتوں میں رقم جمع کرائیں، اگر دو ہفتوں میں رقم جمع نہیں کرائی تو شعیب شیخ پر توہین عدالت کیس چلائیں گے، عدالت اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرائے گی جب کہ چیف جسٹس نے شعیب شیخ کو عدالتی حکم کے بغیر ملک چھوڑنے سے بھی روک دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…