پھندااپنی طرف بڑھتے دیکھ کر نااہل کو دھرنے میں سازش نظر آنے لگی، طاہر القادری باتوں باتوں میں بہت کچھ کہہ گئے

  اتوار‬‮ 20 مئی‬‮‬‮ 2018  |  17:20

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ فلسطین کاز پر استنبول میں منعقدہ او آئی سی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کرتے ہیں، اعلامیہ لفظوں کی حد تک ہی سہی تاہم ٹھوس اقدامات اور اہداف پر مشتمل ہے،اس پر من و عن عمل ہونا چاہیے۔ فلسطینی عوام کے جان و مال اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے عالمی فورس بنانے کی تجویز مناسب ہے۔ اسرائیلی افواج کے ہاتھوںفلسطینی عوام کے حالیہ قتل عام کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کو بلاتاخیر وفد غزہ بھیجنا چاہیے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے عالمی طاقتوں


نے اپنا عالمی قانونی و انسانی کردار ادا نہیں کیاجس کی وجہ سے مسئلہ فلسطین انسانی المیہ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی لائرز موومنٹ کے عہدیدار وکلاء کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وکلاء نے سربراہ عوامی تحریک کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے زیر سماعت کیسز کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ آج 21 مئی کو لاہور ہائیکورٹ کا فل بنچ نواز، شہباز اور حواریوں کی طلبی کی پٹیشن کی سماعت کرے گا اور انسداد دہشتگردی کی عدالت میں بھی سماعت ہو گی۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کاانصاف زندگی موت کی طرح اہم ہے، نواز، شہباز کی طلبی کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں، قاتل اشرافیہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہو گی تو سمجھیں گے انصاف کی فراہمی کا عمل شروع ہو گیا۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ اشرافیہ دو نمبر پیسے سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کے فن کی ماہر ہے لیکن قومی دولت اور بے گناہوں کے خون کو ہضم کرنے کیلئے ان کی ناجائز دولت اور کوئی ہتھکنڈا اس بار کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پھانسی کا پھندا اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر نااہل کو دھرنے میں سازش نظر آنے لگی ہے، جیسے جیسے سانحہ ماڈل ٹاؤن اور قومی دولت کی لوٹ مار کے کیسز آگے بڑھیں گے انہیں بہت کچھ نظر آئے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎