جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیراعظم کے متفقہ نام پر اتفاق نگراں وزیراعظم کوئی خاتون ہو گی یا مرد ہوگا؟ خورشید شاہ نے بتا دیا

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این ) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نگراں وزیراعظم کے متفقہ نام پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق نگراں وزیراعظم کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق کے بعد اب نگراں وفاقی کابینہ پر بھی مشاورت جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور خورشید شاہ کے درمیان پنجاب، سندھ اوربلوچستان کی نگران وزرات اعلیٰ پر بھی مشاورت جاری ہے جب کہ مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں نگران وزیراعلیٰ کے لیے

بھی پیپلزپارٹی سے رائے مانگی ہے۔نگراں وزیراعظم کے معاملے پر جب اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے سوال کیا گیا کہ کیا نگراں وزیر اعظم چھوٹے صوبوں سے ہو گا؟ اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ صوبے کا بتا دیا تو باقی کیا بچے گا۔اپوزیشن لیڈر سے سوال کیا گیا کہ نگراں وزیراعظم کوئی خاتون ہو گی یا مرد ہوگا؟ اس پر خورشید شاہ نے جواب دیا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے جنس کی پابندی نہیں دونوں ہوسکتے ہیں۔خورشید شاہ سے سوال کیا گیا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے میڈیا پر جو نام چل رہے ہیں کیا ان میں کوئی نام ہے؟ اس پر اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ جو نام فائنل ہورہا ہے اس کا میڈیا پربھی چرچا ہو۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھاکہ ہماری کوشش ہے کہ متفقہ طور پر غیر متنازعہ شخص کو وزیراعظم لگایا جائے، منگل کو وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد نگراں وزیر اعظم کینام کا اعلان کروں گا۔ادھر سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے کہا ہے کہ نگران وزیراعظم کیلئے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف میں حتمی میٹنگ منگل کو ہوگی، لگتا ہے کہ فیصلہ الیکشن کمیشن کو ہی کرنا پڑے گا۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا خدا کرے کہ اتفاق رائے سے نگران وزیراعظم کا انتخاب ہو، ایسا نہ ہوا تو معاملہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

انہوں نے کہا قومی معاملات اتفاق رائے سے حل ہوں تو بہتر ہیں، نگران وزیراعظم کا انتخاب مل کر نہیں کر سکتے تو قومی فیصلے کیا کریں گے۔سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ حالات اس نہج تک پہنچانے میں سیاستدان بھی شریک ہیں، حکومت کا فیصلہ ووٹوں سے ہونا ہے، انتخابات جمہوری مستقبل کے حوالے سے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا غیر یقینی صورتحال سے نجات آزادانہ اور شفاف انتخابات سے ہی ممکن ہے، انتخابات شفاف نہ ہوئے تو پھر سوالات اٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کسی قسم کے تنا کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…