جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

شریف خاندان سمیت25 سے زائد کرپٹ افراد کی کرپشن کا ریکارڈ نیب ہیڈ کوارٹر سے چوری کرنے کی کوشش ناکام،5اعلیٰ سرکاری افسران کیخلاف کارروائی شروع،سنسنی خیز انکشافات

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نیب ہیڈ کوارٹر سے شریف خاندان اور پنجاب حکومت کی کرپشن مقدمات کی 20سے زائد فائلیں چرانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے،پنجاب کی کرپٹ بیوروکریسی کی کرپشن کا ریکارڈ چرانے کے بعد ضائع کرنے میں ملوث نیب کے ایک درجن سے زائد افسران کیخلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

نیب ہیڈکوارٹر سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد ،پنجاب بیوروکریسی مافیا کا سرغنہ احد چیمہ کے علاوہ دیگر افسران کی کرپشن کا ریکارڈ ضائع کرنے میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل عہدے کے افسران کا شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ نیب ہیڈ کوارٹر میں موجود افسران کی اکثریت سابق کرپٹ چیئرمین چوہدری قمرالزمان کی باقیات بھی موجود ہیں اور اہم عہدوں پر تعینات ہیں۔نیب آفس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے حساس نوعیت کا ریکارڈ چرانے کی کوشش ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے سیکورٹی گارڈ عابد حسین کو تعریفی سرٹیفکیٹ دئیے ہیں۔نیب کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حساس نوعیت کا ریکارڈ چرانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور اس آپریشن میں ملوث نیب افسران کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا آغاز بھی کردیاگیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق سیکورٹی گارڈ کو10ہزار روپے نقد انعام بھی دیا گیا ہے،چیئرمین نیب جاوید اقبال نے سیکورٹی گارڈ عابد حسین کی فرض شناسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے فرائض احسن طریقہ سے سرانجام دیتے ہیں وہاں نیب سے حساس نوعیت کے ریکارڈ کو غیر ذمہ دارانہ افسران کے ہاتھ میں جانے کی کوشش بھی ناکام بنا دی گئی ہے۔نیب ہیڈ کوارٹر میں فواد حسن فواد کے قریبی رشتہ دار ناصر اقبال ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہیں جنہیں کرپشن الزامات پر ڈی جی نیب راولپنڈی سے ہٹایا گیاتھا

اس کے کرپٹ ساتھی شکیل بھی نیب ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں جنہیں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے غیر قانونی طریقہ سے پلاٹ الاٹ کرانے کے الزامات کا سامنا ہے۔نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ چیئرمین نیب نے نیب ہیڈ کوارٹر میں تعینات بری شہرت کے حامل افسران اور کرپشن میں ملوث رہنے والے نیب افسران کو نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ اہم قومی ادارہ کو کالی بھیڑوں سے پاک کیا جاسکے تاکہ ملک کی موجودہ کرپٹ افسران ،سیاستدان کو قومی دولت لوٹنے پر سزا دلوائی جاسکے۔نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب ہیڈ کوارٹر میں اب سیکورٹی کیمرے بھی لگائے جائیں گے تاکہ تمام افسران کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاسکے تاہم چیئرمین نیب کو چاہئے کہ کرپٹ مافیا کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے نیب کے تمام افسران کو فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کردے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…