جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں ٗ جن کو بری ہونا چاہیے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں ٗ نوازشریف

datetime 4  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ جن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں اور جن کو بری ہونا چاہیے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں ٗکون اہل اور کون نااہل،کون کرپٹ ہے کون نہیں، عوام فیصلہ آئندہ الیکشن میں سنائیں گے ٗعمران خان نے لاہور کے جلسہ کے بعد انتخابات میں تاخیر کی بات کی ہے ٗ انہیں عوام کی پذیرائی نہیں ملی ٗ عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ماہ کیا ایک گھڑی بھی الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

جمعہ کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے عمران خان کی بریت پر رد عمل میں کہا کہ عمران خان نہ عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان پر مقدمہ چلا لیکن انہیں بری کردیا گیا ٗجن کو سزا ملنی چاہیے وہ بری ہورہے ہیں اور جن کو بری ہونا چاہیے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں ٗعجیب منطق ہے ٗایٹمی دھماکا کرنے، موٹرویز بنانے اور بجلی کے کارخانے لگانے والا نااہل ہے ٗکون اہل اور کون نااہل،کون کرپٹ ہے کون نہیں، عوام فیصلہ آئندہ الیکشن میں سنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے تو اپنی بیوی کی تیمار داری کیلئے جانے کی اجازت نہیں دی، ہمارے کئی لوگوں کو توہین عدالت میں سزا ملی ٗپتا نہیں اور کتنے کو دینا چاہتے ہیں ٗپھر کہتے ہیں ملک میں شفاف الیکشن کرائیں گے، میرا اعتماد اٹھ رہا ہے، یہ باتیں کرنے والے اب شفاف الیکشن نہیں کراسکتے۔سابق وزیراعظم نے کہاکہ ’عمران خان نے الیکشن میں ایک ماہ تک تاخیر کا کہا ہے ٗ یہی بات دو صاحبان پہلے بھی کہہ چکے ہیں، عمران خان نے لاہور جلسے کے بعد یہ بات کہی ٗانہیں عوام کی پذیرائی نہیں ملی ٗ انہوں نے امپائر کی انگلی پر اعتماد کیا، انہیں پتا ہے عوام کے انگوٹھے ان کے حق میں نہیں لگنے، اس لیے وہ الیکشن کے التوا کی بات کررہے ہیں۔(ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک ماہ کیا ایک گھڑی بھی الیکشن میں تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…