اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی،22سال میں پارٹی ،اس کے نظریاتی کارکن اور اس کا نظریہ تینوں دفن ہوچکے،ندیم افضل چن جیسے لوگ عمران خان کا کیا حشر کرینگے؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

آج پاکستان تحریک انصاف کا 22 واں یوم تاسیس ہے‘ اس جماعت نے 25 اپریل 1996ء کولاہورمیں جنم لیا اور یہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آج ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے‘ پارٹی نے 22 سال کے اس سفر میں کیا کھویا اور کیا پایا‘ ہم ماضی کو نہیں چھیڑتے‘ ہم بس آج کے اس دن کو لیتے ہیں جس میں آج پارٹی نے اس انقلابی ندیم افضل چن کو بھی شامل کر لیا جو ماضی میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں کیا کہتے تھے،

عمران خان نے 22سال پہلے یہ پارٹی ندیم افضل چن اوررمیش کمار جیسے لوگوں کے خلاف بنائی تھی لیکن آج آپ پارٹی کو دیکھیں تو یہ پارٹی اس کے نظریاتی کارکن اور اس کا نظریہ تینوں ان دونوں پارٹیوں کے لوٹوں میں دفن ہو چکے ہیں اور ندیم افضل چن عمران خان کو بتا رہے ہیں، خان صاحب نظریاتی کارکنوں کو نہ بھولئے گا، شاید عمران خان ندیم افضل چن جیسے لوگوں کو تبدیلی سمجھتے ہیں‘ آپ سمجھیں‘ آپ کو پورا حق ہیلیکن یہ یاد رکھئے وہ لوگ جو اس پارٹی کے نہیں ہو سکے جس نے انہیں عزت دی‘ جس نے انہیں گم نامی کی زندگی سے نکال کر نیشنل لیول کا لیڈر بنایا‘ جس نے انہیں ایک بار ایم این اے بنایا‘ جس نے انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور جس نے انہیں پیپلز پارٹی پنجاب کا سیکرٹری جنرل بنایا‘ یہ اگر اس پارٹی اس ماں کے نہیں ہو سکے تو یہ آپ کے کیسے ہوں گے اور کتنی دیر ہوں گے‘ خان صاحب جو لوگ اپنی پرانی پارٹی کو مشکل دور میں چھوڑ جائیں وہ سب کچھ ہو سکتے ہیں لیکن وہ وفادار اور قابل اعتبار نہیں ہو سکتے اور آپ 22 سال بعد ان بے اعتبار اور بے وفا لوگوں کو اپنے نظریاتی کارکنوں پر فوقیت دے کر وہی غلطی کر رہے ہیں جو آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف نے کی اور یہ آج ان لوگوں کی وجہ سے اس انجام کو پہنچ گئے‘ آپ اگر ندیم افضل چن کو تبدیلی سمجھتے ہیں تو پھر آپ مہربانی فرما کر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو بھی پارٹی میں شامل کر لیں تاکہ تبدیلی اور انقلاب کی تدفین کا آخری فریضہ بھی ادا ہو جائے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…