جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

مساجد میں 4 لاؤڈ سپیکر کے استعمال کیلئے آرڈیننس نافذ کرنے کا اعلان ،مسجدوں میں کتنے بیرونی لاؤڈ سپیکرز کی اجازت ہوگی؟

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن ) صوبائی حکومت نے پنجاب ساؤنڈ سسٹم ( ریگولیشن) (ترمیمی) آرڈیننس نافذ کرنے کا اعلان کردیا، جس کے تحت صوبے بھر کی مساجد میں 4 بیرونی لاؤڈاسپیکر کی اجازت ہوگی۔ آرڈیننس پر دستخط کردیے گئے اور اس کے جلد شائع ہونے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے آرڈیننس میں ترمیم کی گئی ہے جو پنجاب حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے

خاتمے کے لیے بنائے گئے 5 قوانین میں سے ایک تھا۔اس سے قبل اس قانون کے تحت مساجد میں ایک لاؤڈ اسپیکر کی اجازت تھی اور اس کا استعمال بھی محدود تھا جبکہ خلاف ورزی پر سزا بھی دی جاتی تھی۔ تاہم نئے ترمیمی آرڈیننس میں حکام کی جانب سے کہا گیا کہ گورنر کی جانب سے اس آرڈیننس پر دستخط کردیے گئے اور جلداس کے شائع ہونے کا امکان ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس قانون میں ترمیم پر رواں برس کے آغاز پر اس وقت رضا مندی ظاہر کی گئی تھی جب انتخابی اصلاحات ایکٹ میں ترمیم کرکے حلف نامے کے الفاظ تبدیل کرنے کی کوشش پر مذہبی حلقوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔واضح رہے کہ پنجاب ساؤنڈ سسٹم ریگولیشن ایکٹ 2015 کے قانون کا مقصد ’ عوام کو پریشانی اور متازع تقاریر سے محفوظ رکھنا تھا اور دہشت گردی کا فروغ یا کسی جرم میں اکسانے سے بچانا تھا‘۔اس قانون کے ایک اآرٹیکل کے تحت ایک ساؤنڈ سسٹم سے مساجد میں اذان، جمعے، عید اور نماز جنازہ کے عربی خطے یا کسی کی گمشدگی کے اعلان کی اجازت تھی۔تاہم حکام کا کہنا تھا کہ نئے اآرڈیننس کے تحت مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کی تعداد کو بڑھانے کے اجازت ہوگی جبکہ دیگر تمام شق پہلے کیمطابق رہیں گی۔ حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے اس آرڈیننس

کو نافذ کرنے کا اعلان کچھ مذہبی حلقوں کی درخواست کی منظوری کے بعد کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک سے زائد لاؤڈ اسپیکر پر پابندی مناسب نہیں ہے۔کچھ حلقوں کی جانب سے احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اذان کی آواز چاروں سمت میں گونجنی چاہیے جو ایک لاؤڈ اسپیکر سے ممکن نہیں جبکہ ایک درخواست میں کہا گیا تھا کہ مساجد میں صرف ایک لاؤڈ اسپیکر کی پابندی پنجاب کی حد تک ہے جو امتیازی سلوک تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…