جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نیلم جہلم پاور ہاؤس سے بجلی کی پیداوار شروع ،جانتے ہیں 87ارب کا منصوبہ کتنے ارب میں مکمل ہوا؟

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

آٹھ مقام (آن لائن)نیلم جہلم پاور ہاؤس نے بجلی کی پیداوار شروع کر دی، نیشنل گریڈ کو بجلی کی ترسیل شروع۔ رپورٹ کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرل پاور نے بجلی کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ منصوبہ دس سال میں مکمل ہوا ہے۔ دریائے نیلم کو نوسیری کے مقام سے ٹنل کے ذریعے چھتر کلاس تک لے جایا گیا ہے۔ 32 کلومیٹر لمبی ٹنل تعمیر کی گئی ہے ۔ جوکہ گڑی دوپٹہ کے مقام سے دریائے جہلم کے نیچے سے گزرتی ہے۔

چھتر کلاس کے مقام پر زیر زمین پاور ہاؤس کی تنصیب کی گئی ہے۔NJHEP کی فزیبلٹی 1984 میں مکمل کی گئی تھی۔ ابتدائی تخمینہ لاگت87 ارب روپے تھا۔ بروقت منصوبہ شروع نہ ہونے کی وجہ سے تخمینہ لاگت میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ منصوبے کا سنگ بنیاد 2008 میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے رکھا تھا۔ منصوبہ2014 میں مکمل ہونا تھا۔ لیکن پاکستان میں سیاسی عدم استحکام وجہ سے منصوبہ پر کام سست روی کا شکار رہا جس کی وجہ سے چار سال کی تاخیر کے ساتھ 250 ارب روپے اضافی خرچ ہوئے ہیں۔ نیلم جہلم ہائیڈرل پاور پروجیکٹ پاکستان کا تیسرا بڑا منصوبہ ہے جس سے سستی بجلی کی پیدوار شروع ہو گئی ہے۔ بجلی گھر کے اندر چار یونٹ نصب کئے گئے ہیں۔ تین یونٹ مسلسل چلیں گے جن سے969 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گئی ابتدائی طور پر ایک یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع کی گئی ہے ۔ جون تک تین یونٹ فعال ہو جائیں گے۔ جبکہ چوتھا یونٹ کی کسی بھی ایمرجنسی کے لئے ایڈیشنل رکھا جائے گا۔ منصوبہ کو چائنا کی کی کنٹریکٹر کمپنیCGGC نے کام کیا ہے۔ کنسلٹنٹ کی ذمہ داری امریکن کمپنیMWH کی تھی۔ LDC نیسپاکACE واپڈا نے منصوبہ پر نگرانی کے فرائض سرانجام دئیے ہیں۔ دس سالوں میں کام کے

دوران مختلف حادثات میں 20 سے زائد مزدورن اور چینی انجینئرز ہلاک ہوئے ہیں۔ واپڈا کے مطابق منصوبے کی تکمیل سے ملک میں بجلی کا شارٹ فال کم ہونے کے ساتھ سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو جائے گی۔ فی یونٹ ھکومت کو 80 پیسے سے کم پڑے گا۔ روزانہ 15 کروڑ کی آمدن ہو گی۔ منصوبہ پر سات سو ارب سے زائد کی لاگت آئی ہے۔ واپڈا نے ایڈوانس میں نیلم جہلم سرچارج کے نام پر صارفین سے رقم وصول کی ہے۔ جبکہ حکومت آزاد کشمیر سے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔ جبکہ مقامی لوگ اور متاثرین طے کئے گئے معاہدات کی پاسداری کے لئے احتجاج کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی منصوبے کاباقاعدہ افتتاح کریں گے۔ سستی بجلی کی فراہمی سے عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…