جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

حرام کاری سے منع کرتی ہو؟سگا بھائی بہن کو برہنہ کر کے جسم جلتے سگریٹوں سے داغتا رہا،اللہ ،رسول کے واسطےدینے پر الٹا ایسا الزام لگا دیا کہ مقدس رشتے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ  ڈیسک) حرام کاری سے کیوں منع کیا؟ بدنام زمانہ منشیات فروش سگے بھائی نے اپنی ہی یتیم معذور بہن کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، بھائی نے بہن کو برہنہ کرکے جسم کے نازک حصوں پر جوتے مارے اور اس کا جسم جلتے سگریٹوں سے داغتا رہا۔ روزنامہ خبریں کے مطابق ستیانہ روڈ محلہ جیلانی پورہ فیصل آباد کی رہائشی ایک ٹانگ سے معذور 22 سالہ ثوبیہ نے بتایا کہ میرے والدین اور میری بڑی بہن عاصمہ فوت ہوچکی ہے ۔

میرا حقیقی بھائی آصف پہلوان شہر کابڑا منشیات فروش ہے جو کہ چرس، ہیروئن، شراب اور آئس کا نشہ فروخت کرتا تھا ۔وہ منشیات فروشی کے الزام میں تقریباً تین سال جیل میں بھی  بند رہ چکا ہے۔اس کے خلاف تھانہ بٹالہ کالونی میں مقدمات درج ہیں۔ میں نے اور میری بڑی بہن عاصمہ نے کوششیں کرکے اپنے بھائی آصف کو جیل سے رہا کروایا۔میری بڑی بہن عاصمہ بھی تقریباً دو ماہ قبل وفات پاگئی جس کے بعد میرے بھائی آصف نے غیر عورتوں کو گھر لا کر حرام کاری کرنا شروع کردی اور ناجائز منشیات فروشی کا دھندہ کرنا شروع کردیا ۔ میں ایک ٹانگ سے معذور ہوں ۔میں نے اپنے بھائی آصف کو فاحشہ عورتوں کو گھر میں حرام کاری اور ناجائز فروشی کرنے سے منع کیا تو وہ میری جان کا دشمن بن گیا ہے۔میرے بھائی نے گزشتہ دنوں مجھے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا، میرے منہ اور جسم کے نازک حصوں پر جوتے، مکے اور تھپڑ مارے اور بازوﺅں اور ٹانگوں پر جلتے سگریٹس لگائے جس سے میرے جسم کے مختلف حصے جل گئے، میں نے اپنے بھائی کو خدا اور رسول کے واسطے دے کر اور ترلے منتیں کرکے اس کو اپنے اور وحشیانہ تشدد کرنے سے منع کیا مگر میرے ظالم بھائی کے دل میں ذرا رحم اور مجھ پر ترس نہ آیا اور الٹا مجھ پر الزام عائد کردیا کہ باہر سے حرام کاری کرواتی ہو مجھ سے حرام کاری کروالو۔

بھائی کی یہ بات سن کر میں شرم سے ڈوب مرگئی ۔میں قتل ہوجانے کے خوف سے موقع پاکرفرارہوکر اپنے عزیزوں کے ہاں پہنچ گئی ۔جو مجھے مارنے کیلئے تلاش کررہا ہے۔ثوبیہ نے کہا کہ میں  کارروائی کرنے کیلئے تھانہ بٹالہ کالونی گئی، مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور چیف جسٹس ثاقب نثارمجھے انصاف دلائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…