جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سینٹ انتخابات کے بعدآصف علی زرداری اور عمران خان کا ایک اور بڑا سرپرائز،نگران وزیراعظم کون ہوگا؟معاملات طے پاگئے

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(نیوزڈیسک) نگران وزیراعظم کے معاملہ پر آصف زرداری اور عمران خان میں بہت کچھ طے ہونے کی اطلاعات ہیں نجی ٹی وی ’’دنیا نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کے ذمہ دار حلقوں میں نئے نگران وزیراعظم کے نام کیلئے بھی چیئرمین نیب کی طرح کسی ریٹائرڈ جسٹس کا نام گردش میں ہے کیونکہ سمجھا جا رہا ہے کہ نئی صورتحال میں جہاں عدلیہ کا کردار اہم ہے وہاں نئے نظم و نسق میں بھی ریٹائرڈ ججز کو ہی آگے لا کر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جائیں گے،

دوسری جانب ن لیگ بھی چیئرمین سینیٹ کی تقرری کے بعد ہر معاملے میں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ ن لیگ کے حلقوں کے مطابق آئندہ نگران وزیراعظم کیلئے مسلم لیگ ن نے ابھی سے مشاورت شروع کر رکھی ہے اور ہر قیمت پر اپنا نامزد کردہ نگران وزیراعظم بنوانا چاہتی ہے ، اس لئے وہ کسی غیر جانبدار اور سب کیلئے قابل قبول قومی شخصیت کی تلاش میں سرگرم ہے۔دریں اثناء قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ کیلئے نواز شریف سے نہیں بلکہ وزیر اعظم سے بات ہو گی ، اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اوروہ اپنی جماعتوں میں بات کر کے نام دینگے ،چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پر نواز شریف سے کسی طرح کی بات ہی نہیں ہوئی ۔ شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے لاہور آمد کے موقع پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شریف آدمی ہیں انہیں معلوم ہی نہیں کہ کونسا قانون ہے ،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب کی حالت پررحم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ شیری رحمان تجربہ کار پارلیمنٹرین ہیں وہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور سینیٹ میں بطور قائد حزب اختلاف بہترین کردار ادا کریں گی ۔ انہوں نے نوازشریف کے اس سوال کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پیپلزپارٹی سے بات نہیں ہو گی کہ سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے کب کہا کہ ان سے بات ہو گی ۔ نگران سیٹ اپ کیلئے نوازشریف سے نہیں بلکہ وز یر اعظم سے بات ہو گی،

وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشاورت کرنی ہے اور پھر وہ اپنی جماعتوں کوا س سے آگاہ کرتے ہیں۔ بطور قائد حزب اختلاف اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اور وہ اپنی جماعتوں میں بات کر کے اپنے نام دیں گے ۔ اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف ناموں پر متفق نہ ہوئے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا جہاں چھ حکومت اور چھ قائد حزب اختلاف کے لوگ ہوں گے اور اگر یہاں بھی اتفاق رائے سے فیصلہ نہ ہوا تو پھر معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس جائے گا۔ انہوں نے نواز شریف کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں دھوکہ دہی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف صاحب بتائیں پیپلزپارٹی نے ا ن سے کب رابطہ یا وعدہ کیا تھا کہ ووٹ دیں گے ۔ان کے اپنے لوگوں نے دھوکہ دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…