جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

عام انتخابات سے قبل احتساب ، جوڈیشل مارشل کا نفاذ یوم پاکستان کے موقع پر چیف جسٹس نے واضح اور دو ٹوک اعلان کر دیا

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں، ہم نے بھی آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، قسم کھاتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہے،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، چیف جسٹس آف پاکستان کی لاہور میں میڈیا سے بات چیت۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے جوڈیشل مارشل لا کو آئین سے متصادم قرار دیدیا ہے،

لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جوڈیشل مارشل لاء کا آئین میں کوئی تصور نہیں ہم نے بھی آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، قسم کھاتا ہوں کہ اس ملک میں جمہوریت کو کوئی نقصان نہیں ہے،جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صرف آئین کی پاسداری ہو گی، ملک کو آئین اور قانون کے مطابق ہی چلنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کوبلاتفریق انصاف پر شک نہیں ہونا چاہئے، بلاتفریق انصاف ہوتا دکھائی دیگا ۔ قبل ازیں لاہور میں کیتھڈرل اسکول لاہور میں یوم پاکستان کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے، تعلیم ہی قوموں کی ترقی کا راز ہے، جو قومیں تعلیم حاصل نہیں کرتیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں۔واضح رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے دو روز قبل ملک میں عام انتخابات سے قبل جوڈیشل مارشل لا کے نفاذ اور بلاتفریق احتساب کا مطالبہ کیا تھا جس پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی تھی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے شیخ رشید کے اس مطالبے پر انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ جوڈیشل مارشل لا کی بات وہی کر سکتا ہے جس کو مارشل لا سے محبت ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…